اب سیوریج کا نظام برباد ہو چکا ہے گلیوں اور گلیوں سے ملحقہ راستوں کے گٹر عام دنوں میں بھی بند رہتے ہیں بارش کا پانی سیوریج کے راستے سے نہیں نکل پاتا اگر کہیں گٹر میں چلا بھی جاتا ہے تو آگے لائن بند ہونے کی وجہ سے وہاں گٹر ابل پڑتے ہیں یوں ابلتے گٹروں اور بارش کا پانی ناصرف گلیوں میں کھڑا رہتا ہے بلکہ گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے شہریوں کی قیمتی اشیاء برباد ہو جاتی ہیں جس کا سرکاری سطح پر کوئی تخمینہ بھی نہیں لگایا جاتا لہذا ازالہ بھی نہیں کیا جاتا۔ پورا شہر مہینوں گٹر باغیچہ بنا رہتا ہے۔ کراچی کو نکاسی آب کے مربوط نظام کی اشد ضرورت ہے سیوریج کے نظام کی خرابی کی وجہ سے بارشوں سے قبل انتظامیہ شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ Urban flood کا خطرہ ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آگاہی کا کیا کریں کیا اپنے اپنے گھروں کے آگے بند بنا لیں پہلے کراچی شہر کے لوگ صوبے کے دیہی نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے کی صورت میں ان کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ حکومتی سطح پر بھی نقصان کا ازالہ کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے کراچی کے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
اتوار، 24 جولائی، 2022
۱۹۷۷ کے بعد کراچی میں شدید بارشیں ۲۰۲۲
30، جون 1977 کی یادگار بارشوں کے بعد اس سال ریکارڈ بارشیں ہوئیں یوں تو ایک دو سال چھوڑ کر کراچی میں بارشیں ہوتی رہیں جسے انتظامیہ ریکارڈ توڑ بارشیں بتا کر اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس زمانے میں پری مون سون کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی اور پی ٹی وی خبرنامے سے موسم کا حال بتایا جاتا تھا اور بارش کی پیمائش کا پیمانہ بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا چار گھنٹے موسلادھار بارش ہوئی کہا جاتا ہے تقریباً 8 انچ 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی تھی مختلف افواہیں بھی عام گشت کر رہی تھیں جن میں سب سے مضحیکہ خیز یہ تھی کہ دو چار گھنٹے اور بارش ہوتی تو حبیب بینک پلازہ کی 23 میں سے 20 منزلیں ڈوب جاتیں ویسے اگر اب بھی 200 ملی میٹر بارش کی پیشگوئی ہے مگر واقعی وہ طوفانی بارش ایک ریکارڈ یوں بھی ہے کہ صرف چار گھنٹوں میں 200 ملی میٹر اور اس کے ساتھ ہفتے بھر کی جھڑی لگی رہی چار گھنٹے کی طوفانی بارش کا پانی ریلوں کی شکل میں کراچی کی ندیوں میں گیا جس کی وجہ سے ان ندیوں کے قریبی علاقوں میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا تین ہٹی کی ندی پل کے ساتھ بہہ رہی تھی ندی کی پل تک بلندی تقریباً حبیب بینک پلازہ کی بیس منزلوں کے برابر تو ہو گی لامحالہ ندی میں پڑی جھونپڑیاں بہہ گئیں یہ ہی حال لیاری ندی کا تھا جس پر 1978 میں پی ٹی وی سے "بارش" یادگار ڈرامہ بھی نشر کیا گیا تھا کورنگی کا شہر سے ہفتوں رابطہ منقطع رہا۔ ملیر برساتی ندی پر بنا نیا پل ایک طرف سے بیٹھ گیا تھا۔ یہ کراچی میں سیاسی فساد کا زمانہ تھا اس کے چند دن بعد 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔
آج کے تیز رفتار میڈیا کے دور میں نئی نئی اصطلاحات سنے میں آتی ہیں جیسے بیانیہ شاید بیانیہ بیان اور موقف کا ملغوبہ ہے اسی طرح مون سون بارشوں سے متعلق قبل از مون سون، مون سون اور بعد از مون سون جبکہ پاکستان کے خطے میں چار ماہ بارشیں شروع سے ہی ہوتی ہیں برصغیر پاک و ہند میں موسموں کی تقسیم چار ماہ سردی چار ماہ گرمی اور چار ماہ برسات ہے سردیوں کی آمد سے قبل 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک خزاں اور سردیوں کی رخصت کے ساتھ 15 فروری سے 15 مارچ تک بہار رت ہوتی ہے اسی مناسبت سے ربیع اور خریف کی فصلیں کہلاتی ہیں اساڑ، ساون، بھادوں اور کنوار یعنی 15 جون سے 15 ستمبر تک برسات کا موسم ہوتا ہے۔ مون سون کی درجہ بندی کے ساتھ بارش کے پیمانے بھی اپنے اپنے ہیں کوئی 100 ملی میٹر بتاتا ہے تو کوئی 80 ملی میٹر اور کوئی 110 ملی میٹر بتاتا ہے انتظامیہ دو سے ضرب دے کر شہر کی حالت آسمانی آفت قرار دیتی ہے 1977 میں شہر کا سیوریج کا نظام بہتر تھا شہر کا پانی آناً فاناً نالوں سے ہوتا ہوا ندی تک پہنچ گیا جہاں کم وقت میں اتنے زیادہ پانی سے طغیانی آ گئی جس سے ندی کے قریب کی آبادیاں متاثر ہوئیں پورے شہر کی حالت اتنی زیادہ بارشوں میں بھی بہتر رہی۔ خاص طور پر فیڈرل بی ایریا اور لیاقت کی حالت بہت بہتر رہی وقتی طور پر تو گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا لیکن بارش تھمنے کے ڈیڑھ دو گھنٹے بعد گلیوں سے پانی نکل گیا کہیں نشیب میں پانی رک بھی گیا تو سوئیپرز نے برشوں کے ذریعے سوت دیا۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)