جمعہ، 25 اپریل، 2014

اسلام کی پانچ درسگاہیں:


آئمہ خمسہ، اسلام کو سمجھنے اور جاننے کے پانچ مکاتب ہیں. امام نعمان بن ثابت(ابو حنیفہ)، امام جعفر، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل یہ وہ اکابرین اسلام ہیں جنھوں نے شبانہ روز اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے میں صرف کیے. انھوں نے فرقے نہیں بناۓ بلکہ اسلام کے اصول جیسے انھوں نے سمجھے عوام الناس تک پہنچاۓ تاکہ لوگ گمراہی سے بچیں اور تفرقے میں نہ پڑھیں ان آئمہ کا ملت اسلام پر احسان عظیم ہے کہ انھوں نے اپنے علم، ریاضت، مجاہدے اور محنت شاقہ سے قرآن، حدیث اور سنت کی تشریح کی جس سے اسلام عام فہم میں سما سکے اور عمل سہل ہو سکے. تفرقہ تو ان کے مقلدین نے پھیلایا اگر تمام مسلمین ان آئمہ میں سے کسی ایک کی پیروی کرتے تو صرف پانچ فرقے ہوتے لیکن مسلم فرقے تو پانچ کیا پچاس سے بھی زیادہ ہیں یہاں نقطے کی بات ہے ان کے مقلدین نے ان کی تشریح کو سمجھنے میں بھی اختلاف کیا اور مزید جتھے بنا لیے تو کیا قرآن حدیث اورسنت کو ایک عام انسان باآسانی سمجھ سکتا ہے جبکہ اس کا ادراک واضح تشریح کو سمجھنے میں تذبذب میں مبتلا ہے. ان پانچ آئمہ میں اختلاف تو ملتا ہے مگر انکار نہیں ملتا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آئمہ ایک دوسرے کے علم کا لحاظ بھی رکھتے تھے اور اپنی علمی راۓ بھی رکھتے تھے. صاحب علم کی راۓ براۓ تعمیر ہوتی ہے نہ کہ تخریب.

بدھ، 12 فروری، 2014

صبر بے مثل وصف:

 صبر ایک ایسا وصف انسانی ہے جو اللہ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، کربلا میں بہت سی وجوہات تھیی جن کی وجہ سے صبر ترک کیا جاسکتا تھا سب سے بڑھ کر بچوں اور عورتوں کا ساتھ بہانہ بنایا جاسکتا تھا کہ امام حسین کہتے کہ میں اور میرے ساتھی تو پیاس برداشت کر لیتے مگر عورتیں اور بچے پیاس برداشت نہیں کر سکتے اس لیے یزید سے صلح کرنی پڑی مگر آپ اور آپ کے جانثاروں کو اللہ کی مدد حاصل تھی اور سب نے نہ صرف صبر کیا بلکہ ظلم کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے وہ مر کر بھی نہیں مرتا حسین رضی اللہ تعالی عنہ مر کر بھی زندہ ہیں اور یزید مار کر بھی مر گیا۔
                                                          قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
                                                         اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

عالمی امن:


مذاہب عالم کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ہر مذہب لڑنے ہی سے روکتا ہے اور زندگی امن سے گذارنے کی تلقین کرتا ہے اور امن تب ہی قائم ہوسکتا ہے جب تبلیغ کے بجاۓ اس پر عمل کیا جاۓ کیونکہ تمام مذاہب میں محبت کی تعلیم دی گئی ہے اگر ایک دوسرے سے محبت کرنے کا عمل فروغ پا جاۓ تو اپنے اتنے مذہب کے لئے لڑنے کا فتنہ ہی ختم ہوجاۓ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو مانیں نہ مانے برا یا غلط کہنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے عہد حاضر میں کسی کے مذہب کو نہ ماننے کا مسئلہ نہیں بلکہ دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو برا اور غلط کہنا فساد کی جڑ ہے بے عمل اور اپنے اپنے مذہب کی ادھوری تعلیم رکھنے والے دوسروں کے مذہب اور شخصیات کو غلط یا برا کہہ کر خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت کے بموجب عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور شدید جواب آتا ہے نتجتا" نفرتیں بڑھتی ہیں اس سارے گورکھ دھندے کا حل یہ ہے کہ اپنے عقیدے پر عمل کرو اور دوسرے کے عقیدے پامال نہ کرو.