بدھ، 12 فروری، 2014

صبر بے مثل وصف:

 صبر ایک ایسا وصف انسانی ہے جو اللہ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، کربلا میں بہت سی وجوہات تھیی جن کی وجہ سے صبر ترک کیا جاسکتا تھا سب سے بڑھ کر بچوں اور عورتوں کا ساتھ بہانہ بنایا جاسکتا تھا کہ امام حسین کہتے کہ میں اور میرے ساتھی تو پیاس برداشت کر لیتے مگر عورتیں اور بچے پیاس برداشت نہیں کر سکتے اس لیے یزید سے صلح کرنی پڑی مگر آپ اور آپ کے جانثاروں کو اللہ کی مدد حاصل تھی اور سب نے نہ صرف صبر کیا بلکہ ظلم کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے وہ مر کر بھی نہیں مرتا حسین رضی اللہ تعالی عنہ مر کر بھی زندہ ہیں اور یزید مار کر بھی مر گیا۔
                                                          قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
                                                         اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

عالمی امن:


مذاہب عالم کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ہر مذہب لڑنے ہی سے روکتا ہے اور زندگی امن سے گذارنے کی تلقین کرتا ہے اور امن تب ہی قائم ہوسکتا ہے جب تبلیغ کے بجاۓ اس پر عمل کیا جاۓ کیونکہ تمام مذاہب میں محبت کی تعلیم دی گئی ہے اگر ایک دوسرے سے محبت کرنے کا عمل فروغ پا جاۓ تو اپنے اتنے مذہب کے لئے لڑنے کا فتنہ ہی ختم ہوجاۓ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو مانیں نہ مانے برا یا غلط کہنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے عہد حاضر میں کسی کے مذہب کو نہ ماننے کا مسئلہ نہیں بلکہ دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو برا اور غلط کہنا فساد کی جڑ ہے بے عمل اور اپنے اپنے مذہب کی ادھوری تعلیم رکھنے والے دوسروں کے مذہب اور شخصیات کو غلط یا برا کہہ کر خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت کے بموجب عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور شدید جواب آتا ہے نتجتا" نفرتیں بڑھتی ہیں اس سارے گورکھ دھندے کا حل یہ ہے کہ اپنے عقیدے پر عمل کرو اور دوسرے کے عقیدے پامال نہ کرو.