اتوار، 26 نومبر، 2023

ساتھی سے جیون ساتھی تک:

، میرے ساتھیو معذرت قبل از عرض!

یہ جو ساتھی ہوتا ہے کوئی غبارہ نہیں ہوتا کہ بچوں کی طرح کھیلے اور جب دل بھر گیا تو چھوڑ دیا وہ پڑے پڑے مرجھا جاتا ہے اور پھس ہو جاتا ہے۔ ساتھی ساتھ دینے کے لیے ہوتا ہے۔ ہاں ساتھی درجہ با درجہ ہوتے ہیں سب سے پہلے ساتھی ماں باپ ہوتے ہیں ماں دنیا میں آنے سے بھی پہلے سے ساتھ ہوتی ہے اور وہ ساتھ نبھاتی ہے تو ہم دنیا میں آتے ہیں مگر باپ اس سے پہلے سے ساتھی ہوتا ہے جب ہم اس کے نطفے میں ہوتے ہیں،  پھر بہن بھائی اور پھر بچپن میں ساتھ کھیلنے والے ساتھی اسکول مدرسے کے ساتھی کالج یونیورسٹی کے ساتھی اس کے بعد روزگار کے ساتھی اسی اثنا میں جیون کا ساتھی آ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ہم کہیں آتے جاتے ہیں تو ہمیں سفر کے دوران بھی ساتھی ملتے ہیں۔ جو مختصر وقت کے لیے ہوتے ہیں سفر ختم ساتھ ختم۔ 

اسی طرح مدرسہ اسکول کالج یونیورسٹی ختم ساتھ ختم روز گار ختم ساتھیوں کا ساتھ ختم، مگر ان تمام مرحلوں سے کچھ ساتھی ایسے ضرور مل جاتے ہیں جو لمبے عرصے تک ساتھ نبھاتے ہیں کچھ تو نماز جنازہ میں شرکت کے بعد لحد تک ساتھ نبھاتے ہیں۔

ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم اچھے ہیں یا ہمارے ساتھیوں میں صرف اچھائیوں ہی ہوتی ہیں بلکہ ہم اچھائیوں اور خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول ہوتے ہیں اور ساتھ نبھاتے ہیں۔

ان کے علاؤہ پڑوسی بھی ساتھی ہوتے ہیں پڑوس بدلا ساتھ چھوٹا ان میں سے بھی بہت سوں سے دیرپا ساتھ رہتا ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ پڑوسی اور ماں باپ اپنی مرضی سے نہیں ملتے۔ پڑوس اگر ناقابلِ ساتھ ہوں تو بدلے جا سکتے ہیں مگر ماں باپ بدلے نہیں جا سکتے کیونکہ ماں باپ ہمارے وجود کا موجب ہیں ان کا ساتھ نبھانا اس ساتھ کا بدل بھی نہیں جو انھوں نے ہمارے دنیا میں آنے سے قبل نبھایا تھا ہمیں تو ان جیسا ہونا ہے۔ یہاں کوئی دوسری صورت نہیں۔ بقول مشتاق احمد یوسفی کے کہ اگر ماں باپ کو اپنے آنے والی اولاد کے لچھن پہلے سے معلوم ہو جائیں تو کوئی اولاد ہی پیدا نا کرے۔

ماں باپ پیدائش سے پہلے کے ساتھی ہوتے ہیں تو ان کا ساتھ بھی ان کی وفات کے بعد تک ادا کرنا ہے۔ ہمیں بڑے ہو کر ان کی خامیاں تلاش کرنے کا حق ہی حاصل نہیں اگر یہ ہماری بچپن کی حرکتیں عام کر دیں تو ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل ہی نا رہیں۔

جیون ساتھی، شریکِ حیات کو ہم بارضا و رغبت قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہہ کر اپناتے ہیں یعنی اچھائیاں برائیاں جانے بغیر یا جانے بوجھے قبول کرتے ہیں تو اب ساری زندگی ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ اس خامیوں کو نذر انداز کریں کیونکہ اس ساتھ کا آغاز ہی قبول کرنے سے ہوا ہے۔ جیون ساتھی کا ساتھ جیون بھر خامیوں کے ساتھ ہی نبھتا ہے کیونکہ کوئی بھی خامیوں سے خالی نہیں۔ یہ آپ کا احسان ہے نا ایثار ہمارا ساتھی ہماری خامیوں پر ناصرف برہم نہیں ہوتا بلکہ ان پر پردہ ڈالتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔

میاں بیوی کے درمیان خلوص کا رشتہ کامیاب گھریلو زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی بدولت گھر امن اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے اس رشتے کے تعلق سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے ان کے اذہان پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں فطرت اور ماحول دونوں ہی اثر پذیر ہوتے ہیں ہم آہنگی رکھنے والے میاں بیوی کی اولاد فطری طور پر ہم آہنگی کے جذبات رکھتی ہے اپنے ماں باپ کے درمیان ہم آہنگی کو دیکھ کر اولاد عملی طور پر بھی ہم آہنگی پسند ہوتی جاتی ہے اور جن مراحل کا ذکر آغاز میں ذکر کیا گیا ہے وہ تمام زندگی کے مراحل خوش اسلوبی سے طے کرتی ہے۔