اتوار، 26 جون، 2022

جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا🦚

 جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، یہ محاورہ سب ہی نے سنا ہو گا مور صحرائی و کوہستانی جنگل کا پرندہ ہے۔ مور سے بہت سی کہانیاں منسوب کر لی گئیں ہیں جیسے جنگل میں مور کے ناچنے والی بات اور اس سے جڑی کہانی کہ مور جب ناچتا تو اپنے پیر دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتا ہے مور اپنے رنگین پروں کی وجہ سے بہت حسین ہے جبکہ اس کے پیر دیگر پرندوں کے جیسے ہی ہوتے ہیں یہ بات مور کو بہت ناگوار لگتی ہے جب مور ناچ کے اختتام پر اپنے پیر دیکھتا تو اس کے آنسو نکل آتے ہیں اور یہ آنسوں مور مادہ یعنی مورنی چوس لیتی جس سے مور کی افزائش نسل ہوتی ہے دیگر چرند و پرند کی طرح تولیدی عمل نہیں ہوتا۔ اس لیے مور کو پاک پرندہ تصور کیا جاتا ہے اس کے پر بھی پاک سمجھے جاتے ہیں جنھیں پاک سمجھ کر مذہبی کتب میں نشانی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہیں یہ تصور برصغیر کے ہندو اور مسلمانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ عہد حاضر کے ذرائع ابلاغ نے ان تصورات کو زائل کر دیا کہ مور تولیدی عمل سے مبرا ہے اس کا ناچنا عام دیگر پرندوں کی طرح اپنی مادہ کو لبھانے کا ویسا ہی انداز ہے جیسے کبوتر غٹک کر اور دیگر پرندے مختلف آواز و سکنات سے اپنی مادہ کو لبھاتے ہیں۔

مور کی آواز سریلی نہیں ہوتی۔ لیکن تولیدی زمانے میں اس کی آواز میں رعنائی آجاتی ہے۔ مور مون سون کی بارشوں میں مخصوص آوازیں نکال کر بارش کی خبر دیتا ہے یہ بارشوں کا زمانہ اس کی افزائش نسل کا وقت ہوتا ہے۔

مور ایشیائی اور افریقی ممالک میں پایا جاتا ہے، مور کے سر پر ایک تاج ہوتا ہے اس کا جسم رنگین پروں سے مزین ہوتا ہے جبکہ بالغ مادہ مورنی اکثر بھورے رنگ کی ہوتی ہے اگر جغرافیائی حساب سے دیکھا جائے تو ہمیں مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں کے مور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان کے ہر علاقے میں مور پائے جاتے ہیں سندھ میں تھرپارکر کے نیلے رنگ کے مور زیادہ دیدہ زیب ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ پنجاب میں  کلر کہار کو موروں کی وادی کہا جاتا ہے 1984 میں کلر کہار جانے کا اتفاق ہوا وہاں مور کھلے عام گھومتے ہوئے باچشم خود دیکھے ایک درخت سے دوسرے درخت پر اڑ کر جاتے ہوئے مور انتہائی حسین و دلکش لگتے ہیں تب پتہ چلا تھا کہ مور اڑ بھی سکتے ہیں جبکہ مور زیادہ تر وقت زمین پر رہتے ہیں، چونکہ مور زمین پر رہنے والا پرندہ ہے اس لیے وہ اڑنے کے بجائے بھاگنے کو ترجیح دیتا ہے مور 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے جو کہ دوسرے زمینی پرندوں کی رفتار کے مقابلے میں کافی تیز ہے۔

مور سے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے دل بار بار کہہ رہا ہے "ڈو مور" اس ضمن میں سانپ اور مور کا ذکر بھی بہت اہم تھا یہ تحریر فی البدیہ ہے مزید لکھنے کے لیے پڑھنا پڑے گا یا چھٹے امام گوگل سے رجوع کرنا ہوگا۔ ویسے اس کا جواب چچا گوگل سے بھی نہیں ملا کہ "چور کو پڑ گئے مور" میں مور مذکور ہے یا "ڈو مور" ہے


ہفتہ، 25 جون، 2022

نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینا:

 حضرت عبیداللہ بن ابی رافع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن ؓ بن علی ؓ کی ولادت کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا''۔

بچے کی پیدائش پر کان میں اذان دینا اسلامی شعار ہے اذان اس امر کا اعلان ہوتا ہے کہ رحم مادر سے دنیا میں بھیجنے والا اللہ ہے جس نے رحم مادر میں تجھے اپنے رحم سے مدت پوری ہونے تک محفوظ رکھا وہ بزرگی والا ہے اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں اس اقرار کا پاس تاحیات کرنا ہے۔

اذان کے آغاز میں اللّٰہ کی بزرگی بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ اس حقیقت کو چار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ سننے والے کی لوح دل پر یہ نقش ثبت ہو جائے اس کے بعد اذان دینے والا گواہی دیتا ہے کہ اللّٰہ کے سوا اور کوئی اللّٰہ نہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ جملہ دوبار دہراتا ہے تاکہ سننے والے بچے کے دل و دماغ میں کوئی شک نہ رہے۔ بعد ازاں دوسری صداقت کی دو مرتبہ گواہی دیتا ہے۔ جس نے ہمیں یہ بتایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اس کے بعد مقصد حیات اللّٰہ کی عبادت کرنے کے لیے پکارا جاتا ہے ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف‘‘ یعنی اللّٰہ کی عبادت کے لیے تیار ہو جاؤ یہی نماز دونوں جہانوں میں سرفراز ہونے کا ذریعہ ہے اسی حاضری میں تمہاری فلاح ہے۔ آؤ فلاح کی طرف، آؤ فلاح کی طرف۔ پھر اذان کی ابتداء میں بیان کردہ حقیقت کو دو بار اور دہرایا جاتا ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر آخر میں دین اسلام کے اعلیٰ  ترین اعلان کے ساتھ پیغام مکمل ہوتا ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

«مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ»