حلیم اور دلیم کی بحث مہنگائی کی نذر ہو گئی اس سال کوئی ایسی تحریر پڑھنے میں نہیں آئی جس میں حلیم دلیم پر بحث کی گئی ہو۔ جب سے ہوش سنبھالا حلیم ہی کہا، سنا اور کھایا چند سالوں سے یہ بحث چھڑ گئی کہ حلیم کہنا غلط ہے دلیم کہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی حلیم کے لنگر کی وہ کثرت بھی نظر نہیں آئی جو گزشتہ سالوں میں نظر آتی تھی حلیم بغیر کہے گھر پر آ جاتا تھا اس سال تو کئی احباب سے کہا بھی مگر حلیم نا آیا۔
دلیم کے موجدین کا کہنا ہے حلیم اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اس لیے حلیم کہنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام اور بھی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام مالک بھی ہے یہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے جیسے اس گھر کا کون مالک ہے اس گاڑی کا کون مالک ہے اس پلاٹ کا کون مالک ہے وغیرہ وغیرہ
اس پر تو آج تک کوئی اعتراض نہیں ہوا اس کے جواب میں یہ ہی کہا جاتا ہے کہ اس گاڑی کا فلاں مالک ہے یا اس پلاٹ کا میں مالک ہوں۔ حلیم کے معنی نرمی والا، متحمل کے ہیں
حلیم ایسا کہ دیوانی ایک دنیا تھی
کہ اس سے ہاتھ ملانا ثواب لگتا تھا
حلیم ایک ایسا پکوان ہے جس میں اجناس اس قدر گل جاتی ہیں کہ تمام اجناس یک جان ہو جاتی ہیں جس میں کسی بھی چیز کا ذائقہ الگ محسوس نہیں کیا جا سکتا بلکہ سب کے باہم پکنے سے ایک لذیذ کھانا بن جاتا ہے جو نرم اور ملائم ہوتا ہے اس کی خاص بات یہ بھی ہے اس میں دالیں چاول مرچ مصالحے جو بھی ڈالے جاتے ہیں سب ضم ہو جاتے ہیں۔ حلیم مزیدار، چٹ پٹا ہی مزا دیتا ہے۔ کبھی تھانوی صاحب کے حوالے سے پرمزاح بات سنی تھی۔ کسی کے یہاں ان کی دعوت ہوئی، اس نے حلیم کھلایا اور اس قدر چٹ پٹا بنا رکھا تھا کہ کھاتے وقت حضرت تھانوی کی آنکھوں اور ناک سے خوب پانی نکلنے لگا تو حضرت نے فرمایا ”کس ظالم نے اس کا نام حلیم رکھا ہے یہ بہت غضبناک ہے“۔
حلیم کی علمی بحث سے ہٹ کر حلیم ایک ایسا پکوان ہے جس میں اخوت، بھائی چارے اور یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے سنتے ہیں کہ شب عاشور کے بعد شہید کربلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قافلے کے لوگوں نے زاد راہ میں سے بچ جانے والی اجناس جس میں گیہوں، جو، چاول اور دالیں شامل تھی ایک بڑے دیگچے میں ڈال کر پکایا جس سے قافلے والوں کے لیے خوارک تیار کی گئی۔ اسی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اب بھی حلیم تیار کیا جاتا ہے۔ شہدائے کربلا کی نیاز و نذر کا لنگر بانٹا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں سے حلیم کے لیے بہت سے لوگ مل کر حلیم بنانے کا اہتمام کرتے ہیں صرف اخراجات میں ہی حصہ داری نہیں کی جاتی بلکہ اسے تیار کرنے میں بھی سب حصہ لیتے ہیں پوری رات حلیم کے اجزاء کو گلایا جاتا ہے اچھی طرح گل جانے پر سب مل کر باری باری گھونٹا لگاتے ہیں۔ اب اخراجات کے حوالے سے مہنگائی یکجا نہیں ہونے دیتی کسی کی استطاعت نہیں تو کوئی کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے اس طرح نا اخراجات میں باہمی تعاون رہا اور نا حلیم کی تیاری میں۔ اگر مہنگائی کا یہ تسلسل برقرار رہا اور بھائی چارہ یوں ہی مفقود ہوتا رہا تو نا حلیم بنے گا اور نا دلیم رہے گا۔ کھچڑا ہی رہ جائے گا لوگ اپنے اپنے گھروں میں بنائیں گے اور خود ہی کھائیں گے۔
