ہفتہ، 10 دسمبر، 2022

ابنِ بطوطہ فیفا کے تعاقب میں ⚽

مراکش اور اسپین کا صدیوں پرانا بیر ہے. جیسے پاکستان بھارت کا، شاید اس سے بھی زیادہ۔ مراکش اور اسپین کے درمیان میچ پینلٹی شوٹ آؤٹ مرحلے تک پہنچا اور مراکش نے پہلی مرتبہ  کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تو یہ فٹ بال  میچ شائقین کے لیے ایک دلچسپ مرحلہ ثابت ہوا۔ مراکش نے اسپین سے میچ جیتا تو تمام کھلاڑی میدان میں سجدہ ریز ہوئے. کوچ ولید بھاگ کر اپنی ماں کے پاس پہنچا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا. قطر ورلڈ کپ سے قبل دنیا نے ایسے مناظر نہیں دیکھے ہوں گے جیسے قطر میں دیکھنے میں آئے۔ کواٹر فائنل میں مراکش پرتگال کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ لگتا ہے تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہونے والا ہے.

فٹبال ورلڈ چیمپیئن مسلمان افریقی ملک مراکش بننے جا رہا ہے مراکش ایسے ہی جفا کش لوگوں کا ملک ہے چودھویں صدی کے اوائل میں ایک اکیس سالہ نوجوان ابو عبداللہ محمد مراکش کے شہر طنجہ سے دنیا دیکھنے نکلتے ہیں وہ حج کرنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ جب انہوں نے دنیا کو دیکھا تو پھر حج کرنے کے بعد واپس گھر جانے کے بجائے انہوں نے دنیا کا سفر کرنے کا ارادہ کرلیا اور پھر ساری زندگی سیر و سیاحت ہی میں گزار دی۔ انہوں نے جن ملکوں کا سفر کیا ان میں (آج کے ناموں کے اعتبار سے) مصر، شام، اردن، لبنان، اسرائیل، فلسطین، عراق، یمن، امارات کے ملک، سعودی عرب، ایران، ترکی، آذر بائیجان، جارجیا، روس، تاجکستان، ترکمانستان، آرمینیا، کرغستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان، مالدیپ، سری لنکا، تھائی لینڈ، برما، کمبوڈیا، ملائشیا، انڈونیشیا، چین، شمالی افریقہ کے ممالک، سوڈان، لیبیا، تیونس ،مراکش (جو کہ ان کا وطن تھا) نائیجیریا ، مالی ، اسپین، اور دوسرے ممالک شامل ہیں یہ سیاح و مورخ، ابن بطوطہ کے نام سے مشہور ہیں اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔ یورپ والوں کو انیسویں صدی میں ابن بطوطہ کے سفرنامہ کا علم ہوا۔ یورپی زبانوں سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم کیے گئے اردو میں اس سفرنامے کا ترجمہ "سفر نامہ ابنِ بطوطہ" کے نام سے دستیاب ہے۔ پاکستان کے مشہور ادیب و سیاح ابنِ انشاء نے اپنے سفر نامے کو "ابن بطوطہ کے تعاقب میں" نام دیا۔

بات چلی تھی فٹبال ورلڈ کپ میں مراکش کی شاندار کارکردگی سے "پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا" کے مصداق بات پہنچی پاکستان تک، ویسے بھی اس پورے بین الاقوامی ایونٹ میں پاکستان کا اہم کردار ہے جس کا ذکر کم کم ہی ہو رہا ہے۔


 

ہفتہ، 13 اگست، 2022

قومی کھیل اور آسٹروٹرف


پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے متعدد بار ہاکی ورلڈ کپ جیتنے کئی بار عالمی اولمپک کھیلوں میں سونے کے میڈل جیتنے ایشیائی چیمپیئن رہنے کے باوجود ہاکی کا کھیل سرکاری سطح پر بےاعتنائی کا شکار رہا ہاکی کے کھلاڑیوں پر وہ نوازشیں کبھی نا ہوئیں جو کرکٹ کے کھلاڑیوں پر ہوتی رہیں۔ اب ہاکی کے اسٹیڈیم بھی اجاڑے جا رہے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہاکی قدرتی گھاس پر کھیلی جاتی تھی لیکن ستر کی دہائی میں آسٹروٹرف کو دنیا میں متعارف کرایا گیا جو ایک مصنوعی گھاس کا سینتھیٹک قالین ہوتا ہے۔ آسٹروٹرف کی بھی مختلف اقسام اب آچکی ہیں جن پر ہاکی کھیلی جاتی ہے۔

پہلے اس کا رنگ سبز ہوتا تھا لیکن اب یہ نیلے رنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں پہلا آسٹروٹرف کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں بچھائی گئی تھی۔ بعد میں اسے عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہاکی کی پہچان رہا ہے۔ سن انیس سو اسی میں دوسری چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر یہاں پاکستان کی پہلی آسٹروٹرف بچھائی گئی تھی اس کا رنگ سبز تھا اتفاق سے ۱۹۸۴ میں اس آسَٹروٹرف پر شوقیہ میچ کھیلنے کا موقع ملا جس سے اندازہ ہوا کہ آسٹروٹرف گھاس نما ریشوں پر مشتمل دبیز کھالین ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کی ۲۰۱۸ میں تزئین و آرائش کی گئی اب اس میں نیلے رنگ کی آسٹروٹرف بجھائی گئی ہے۔

لاہور ہاکی اسٹیڈیم کی آسٹروٹرف بھی نیلے رنگ کی تھی یہ آسٹروٹرف ۲۰۱۳ میں چار کروڑ روپے کی لاگت سے بچھائی گئی تھی جو اب ہٹائی جا رہی ہے کھیل کے میدان میں اب سیاسی کھیل ہو گا۔ کھلاڑی نے ۱۳ اگست کے جلسے کے لیے لاہور ہاکی اسٹیڈیم کا انتخاب کیا ہے۔ جہاں پاکستان کے ہر گول پر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے تھے اب وہاں کرکٹ کے آل راونڈر پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کے نعرے وجن گے۔ سابق ہاکی اسٹار نے اس فیصلے کو ہاکی کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے سابق اولمپیئن انجم سعید کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے وہ بطور کھلاڑی اس پر زیادہ بات نہیں کر سکتے لیکن ایک عالمی معیار کے ہاکی گراؤنڈ کو سیاسی جلسے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ میجر ریٹائرڈ پیر زادہ نے کہا کہ ہاکی اسٹیڈیم سے آسٹرو ٹرف کیوں اکھاڑی گئی اسٹیڈیم جلسہ گاہ نہیں ہے اسے جلسے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اتوار، 24 جولائی، 2022

۱۹۷۷ کے بعد کراچی میں شدید بارشیں ۲۰۲۲

30، جون 1977 کی یادگار بارشوں کے بعد اس سال ریکارڈ بارشیں ہوئیں یوں تو ایک دو سال چھوڑ کر کراچی میں بارشیں ہوتی رہیں جسے انتظامیہ ریکارڈ توڑ بارشیں بتا کر اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس زمانے میں پری مون سون کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی اور پی ٹی وی خبرنامے سے موسم کا حال بتایا جاتا تھا اور بارش کی پیمائش کا پیمانہ بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا چار گھنٹے موسلادھار بارش ہوئی کہا جاتا ہے تقریباً 8 انچ 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی تھی مختلف افواہیں بھی عام گشت کر رہی تھیں جن میں سب سے مضحیکہ خیز یہ تھی کہ دو چار گھنٹے اور بارش ہوتی تو حبیب بینک پلازہ کی 23 میں سے 20 منزلیں ڈوب جاتیں ویسے اگر اب بھی 200 ملی میٹر بارش کی پیشگوئی ہے مگر واقعی وہ طوفانی بارش ایک ریکارڈ یوں بھی ہے کہ صرف چار گھنٹوں میں 200 ملی میٹر اور اس کے ساتھ ہفتے بھر کی جھڑی لگی رہی چار گھنٹے کی طوفانی بارش کا پانی ریلوں کی شکل میں کراچی کی ندیوں میں گیا جس کی وجہ سے ان ندیوں کے قریبی علاقوں میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا تین ہٹی کی ندی پل کے ساتھ بہہ رہی تھی ندی کی پل تک بلندی تقریباً حبیب بینک پلازہ کی بیس منزلوں کے برابر تو ہو گی لامحالہ ندی میں پڑی جھونپڑیاں بہہ گئیں یہ ہی حال لیاری ندی کا تھا جس پر 1978 میں پی ٹی وی سے "بارش" یادگار ڈرامہ بھی نشر کیا گیا تھا کورنگی کا شہر سے ہفتوں رابطہ منقطع رہا۔ ملیر برساتی ندی پر بنا نیا پل ایک طرف سے بیٹھ گیا تھا۔ یہ کراچی میں سیاسی فساد کا زمانہ تھا اس کے چند دن بعد 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔
آج کے تیز رفتار میڈیا کے دور میں نئی نئی اصطلاحات سنے میں آتی ہیں جیسے بیانیہ شاید بیانیہ بیان اور موقف کا ملغوبہ ہے اسی طرح مون سون بارشوں سے متعلق قبل از مون سون، مون سون اور بعد از مون سون جبکہ پاکستان کے خطے میں چار ماہ بارشیں شروع سے ہی ہوتی ہیں برصغیر پاک و ہند میں موسموں کی تقسیم چار ماہ سردی چار ماہ گرمی اور چار ماہ برسات ہے سردیوں کی آمد سے قبل 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک خزاں اور سردیوں کی رخصت کے ساتھ 15 فروری سے 15 مارچ تک بہار رت ہوتی ہے اسی مناسبت سے ربیع اور خریف کی فصلیں کہلاتی ہیں اساڑ، ساون، بھادوں اور کنوار یعنی 15 جون سے 15 ستمبر تک برسات کا موسم ہوتا ہے۔ مون سون کی درجہ بندی کے ساتھ بارش کے پیمانے بھی اپنے اپنے ہیں کوئی 100 ملی میٹر بتاتا ہے تو کوئی 80 ملی میٹر اور کوئی 110 ملی میٹر بتاتا ہے انتظامیہ دو سے ضرب دے کر شہر کی حالت آسمانی آفت قرار دیتی ہے 1977 میں شہر کا سیوریج کا نظام بہتر تھا شہر کا پانی آناً فاناً نالوں سے ہوتا ہوا ندی تک پہنچ گیا جہاں کم وقت میں اتنے زیادہ پانی سے طغیانی آ گئی جس سے ندی کے قریب کی آبادیاں متاثر ہوئیں پورے شہر کی حالت اتنی زیادہ بارشوں میں بھی بہتر رہی۔ خاص طور پر فیڈرل بی ایریا اور لیاقت کی حالت بہت بہتر رہی وقتی طور پر تو گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا لیکن بارش تھمنے کے ڈیڑھ دو گھنٹے بعد گلیوں سے پانی نکل گیا کہیں نشیب میں پانی رک بھی گیا تو سوئیپرز نے برشوں کے ذریعے سوت دیا۔

اب سیوریج کا نظام برباد ہو چکا ہے گلیوں اور گلیوں سے ملحقہ راستوں کے گٹر عام دنوں میں بھی بند رہتے ہیں بارش کا پانی سیوریج کے راستے سے نہیں نکل پاتا اگر کہیں گٹر میں چلا بھی جاتا ہے تو آگے لائن بند ہونے کی وجہ سے وہاں گٹر ابل پڑتے ہیں یوں ابلتے گٹروں اور بارش کا پانی ناصرف گلیوں میں کھڑا رہتا ہے بلکہ گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے شہریوں کی قیمتی اشیاء برباد ہو جاتی ہیں جس کا سرکاری سطح پر کوئی تخمینہ بھی نہیں لگایا جاتا لہذا ازالہ بھی نہیں کیا جاتا۔ پورا شہر مہینوں گٹر باغیچہ بنا رہتا ہے۔ کراچی کو نکاسی آب کے مربوط نظام کی اشد ضرورت ہے سیوریج کے نظام کی خرابی کی وجہ سے بارشوں سے قبل انتظامیہ شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ Urban flood کا خطرہ ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آگاہی کا کیا کریں کیا اپنے اپنے گھروں کے آگے بند بنا لیں پہلے کراچی شہر کے لوگ صوبے کے دیہی نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے کی صورت میں ان کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ حکومتی سطح پر بھی نقصان کا ازالہ کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے کراچی کے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

اتوار، 26 جون، 2022

جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا🦚

 جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، یہ محاورہ سب ہی نے سنا ہو گا مور صحرائی و کوہستانی جنگل کا پرندہ ہے۔ مور سے بہت سی کہانیاں منسوب کر لی گئیں ہیں جیسے جنگل میں مور کے ناچنے والی بات اور اس سے جڑی کہانی کہ مور جب ناچتا تو اپنے پیر دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتا ہے مور اپنے رنگین پروں کی وجہ سے بہت حسین ہے جبکہ اس کے پیر دیگر پرندوں کے جیسے ہی ہوتے ہیں یہ بات مور کو بہت ناگوار لگتی ہے جب مور ناچ کے اختتام پر اپنے پیر دیکھتا تو اس کے آنسو نکل آتے ہیں اور یہ آنسوں مور مادہ یعنی مورنی چوس لیتی جس سے مور کی افزائش نسل ہوتی ہے دیگر چرند و پرند کی طرح تولیدی عمل نہیں ہوتا۔ اس لیے مور کو پاک پرندہ تصور کیا جاتا ہے اس کے پر بھی پاک سمجھے جاتے ہیں جنھیں پاک سمجھ کر مذہبی کتب میں نشانی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہیں یہ تصور برصغیر کے ہندو اور مسلمانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ عہد حاضر کے ذرائع ابلاغ نے ان تصورات کو زائل کر دیا کہ مور تولیدی عمل سے مبرا ہے اس کا ناچنا عام دیگر پرندوں کی طرح اپنی مادہ کو لبھانے کا ویسا ہی انداز ہے جیسے کبوتر غٹک کر اور دیگر پرندے مختلف آواز و سکنات سے اپنی مادہ کو لبھاتے ہیں۔

مور کی آواز سریلی نہیں ہوتی۔ لیکن تولیدی زمانے میں اس کی آواز میں رعنائی آجاتی ہے۔ مور مون سون کی بارشوں میں مخصوص آوازیں نکال کر بارش کی خبر دیتا ہے یہ بارشوں کا زمانہ اس کی افزائش نسل کا وقت ہوتا ہے۔

مور ایشیائی اور افریقی ممالک میں پایا جاتا ہے، مور کے سر پر ایک تاج ہوتا ہے اس کا جسم رنگین پروں سے مزین ہوتا ہے جبکہ بالغ مادہ مورنی اکثر بھورے رنگ کی ہوتی ہے اگر جغرافیائی حساب سے دیکھا جائے تو ہمیں مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں کے مور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان کے ہر علاقے میں مور پائے جاتے ہیں سندھ میں تھرپارکر کے نیلے رنگ کے مور زیادہ دیدہ زیب ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ پنجاب میں  کلر کہار کو موروں کی وادی کہا جاتا ہے 1984 میں کلر کہار جانے کا اتفاق ہوا وہاں مور کھلے عام گھومتے ہوئے باچشم خود دیکھے ایک درخت سے دوسرے درخت پر اڑ کر جاتے ہوئے مور انتہائی حسین و دلکش لگتے ہیں تب پتہ چلا تھا کہ مور اڑ بھی سکتے ہیں جبکہ مور زیادہ تر وقت زمین پر رہتے ہیں، چونکہ مور زمین پر رہنے والا پرندہ ہے اس لیے وہ اڑنے کے بجائے بھاگنے کو ترجیح دیتا ہے مور 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے جو کہ دوسرے زمینی پرندوں کی رفتار کے مقابلے میں کافی تیز ہے۔

مور سے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے دل بار بار کہہ رہا ہے "ڈو مور" اس ضمن میں سانپ اور مور کا ذکر بھی بہت اہم تھا یہ تحریر فی البدیہ ہے مزید لکھنے کے لیے پڑھنا پڑے گا یا چھٹے امام گوگل سے رجوع کرنا ہوگا۔ ویسے اس کا جواب چچا گوگل سے بھی نہیں ملا کہ "چور کو پڑ گئے مور" میں مور مذکور ہے یا "ڈو مور" ہے


ہفتہ، 25 جون، 2022

نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینا:

 حضرت عبیداللہ بن ابی رافع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن ؓ بن علی ؓ کی ولادت کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا''۔

بچے کی پیدائش پر کان میں اذان دینا اسلامی شعار ہے اذان اس امر کا اعلان ہوتا ہے کہ رحم مادر سے دنیا میں بھیجنے والا اللہ ہے جس نے رحم مادر میں تجھے اپنے رحم سے مدت پوری ہونے تک محفوظ رکھا وہ بزرگی والا ہے اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں اس اقرار کا پاس تاحیات کرنا ہے۔

اذان کے آغاز میں اللّٰہ کی بزرگی بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ اس حقیقت کو چار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ سننے والے کی لوح دل پر یہ نقش ثبت ہو جائے اس کے بعد اذان دینے والا گواہی دیتا ہے کہ اللّٰہ کے سوا اور کوئی اللّٰہ نہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ جملہ دوبار دہراتا ہے تاکہ سننے والے بچے کے دل و دماغ میں کوئی شک نہ رہے۔ بعد ازاں دوسری صداقت کی دو مرتبہ گواہی دیتا ہے۔ جس نے ہمیں یہ بتایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اس کے بعد مقصد حیات اللّٰہ کی عبادت کرنے کے لیے پکارا جاتا ہے ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف‘‘ یعنی اللّٰہ کی عبادت کے لیے تیار ہو جاؤ یہی نماز دونوں جہانوں میں سرفراز ہونے کا ذریعہ ہے اسی حاضری میں تمہاری فلاح ہے۔ آؤ فلاح کی طرف، آؤ فلاح کی طرف۔ پھر اذان کی ابتداء میں بیان کردہ حقیقت کو دو بار اور دہرایا جاتا ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر آخر میں دین اسلام کے اعلیٰ  ترین اعلان کے ساتھ پیغام مکمل ہوتا ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

«مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ»