بدھ، 17 جولائی، 2024

حلیم اخوت اور بھائی چارے کی مثال:

 حلیم اور دلیم کی بحث مہنگائی کی نذر ہو گئی اس سال کوئی ایسی تحریر پڑھنے میں نہیں آئی جس میں حلیم دلیم پر بحث کی گئی ہو۔ جب سے ہوش سنبھالا حلیم ہی کہا، سنا اور کھایا چند سالوں سے یہ بحث چھڑ گئی کہ حلیم کہنا غلط ہے دلیم کہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی حلیم کے لنگر کی وہ کثرت بھی نظر نہیں آئی جو گزشتہ سالوں میں نظر آتی تھی حلیم بغیر کہے گھر پر آ جاتا تھا اس سال تو کئی احباب سے کہا بھی مگر حلیم نا آیا۔

دلیم کے موجدین کا کہنا ہے حلیم اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اس لیے حلیم کہنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام اور بھی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام مالک بھی ہے یہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے جیسے اس گھر کا کون مالک ہے اس گاڑی کا کون مالک ہے اس پلاٹ کا کون مالک ہے وغیرہ وغیرہ 

اس پر تو آج تک کوئی اعتراض نہیں ہوا اس کے جواب میں یہ ہی کہا جاتا ہے کہ اس گاڑی کا فلاں مالک ہے یا اس پلاٹ کا میں مالک ہوں۔ حلیم کے معنی نرمی والا، متحمل کے ہیں

حلیم ایسا کہ دیوانی ایک دنیا تھی 

کہ اس سے ہاتھ ملانا ثواب لگتا تھا 

حلیم ایک ایسا پکوان ہے جس میں اجناس اس قدر گل جاتی ہیں کہ تمام اجناس یک جان ہو جاتی ہیں جس میں کسی بھی چیز کا ذائقہ الگ محسوس نہیں کیا جا سکتا بلکہ سب کے باہم پکنے سے ایک لذیذ کھانا بن جاتا ہے جو نرم اور ملائم ہوتا ہے اس کی خاص بات یہ بھی ہے اس میں دالیں چاول مرچ مصالحے جو بھی ڈالے جاتے ہیں سب ضم ہو جاتے ہیں۔ حلیم مزیدار، چٹ پٹا ہی مزا دیتا ہے۔ کبھی تھانوی صاحب کے حوالے سے پرمزاح بات سنی تھی۔ کسی کے یہاں ان کی دعوت ہوئی، اس نے حلیم کھلایا اور اس قدر چٹ پٹا بنا رکھا تھا کہ کھاتے وقت حضرت تھانوی کی آنکھوں اور ناک سے خوب پانی نکلنے لگا تو حضرت نے فرمایا ”کس ظالم نے اس کا نام حلیم رکھا ہے یہ بہت غضبناک ہے“۔

حلیم کی علمی بحث سے ہٹ کر حلیم ایک ایسا پکوان ہے جس میں اخوت، بھائی چارے اور یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے سنتے ہیں کہ شب عاشور کے بعد شہید کربلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قافلے کے لوگوں نے زاد راہ میں سے بچ جانے والی اجناس جس میں گیہوں، جو، چاول اور دالیں شامل تھی ایک بڑے دیگچے میں ڈال کر پکایا جس سے قافلے والوں کے لیے خوارک تیار کی گئی۔ اسی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اب بھی حلیم تیار کیا جاتا ہے۔ شہدائے کربلا کی نیاز و نذر کا لنگر بانٹا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں سے حلیم کے لیے بہت سے لوگ مل کر حلیم بنانے کا اہتمام کرتے ہیں صرف اخراجات میں ہی حصہ داری نہیں کی جاتی بلکہ اسے تیار کرنے میں بھی سب حصہ لیتے ہیں پوری رات حلیم کے اجزاء کو گلایا جاتا ہے اچھی طرح گل جانے پر سب مل کر باری باری گھونٹا لگاتے ہیں۔ اب اخراجات کے حوالے سے مہنگائی یکجا نہیں ہونے دیتی کسی کی استطاعت نہیں تو کوئی کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے اس طرح نا اخراجات میں باہمی تعاون رہا اور نا حلیم کی تیاری میں۔ اگر مہنگائی کا یہ تسلسل برقرار رہا اور بھائی چارہ یوں ہی مفقود ہوتا رہا تو نا حلیم بنے گا اور نا دلیم رہے گا۔ کھچڑا ہی رہ جائے گا لوگ اپنے اپنے گھروں میں بنائیں گے اور خود ہی کھائیں گے۔



بدھ، 5 جون، 2024

شیخ، شیخ قریشی اور قریشی:

شیخ:

شیخ کے معنے عرب کے باشندے کے ہیں جیسے افغانستان کے لوگ خان کہلاتے ہیں۔ اور ہالینڈ کے ڈچ وغیرہ وغیرہ۔ برصغیر میں ہندوستان کے مقامی لوگ جب کسی عرب شیخ کے ہاتھ پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تو بطور عزت شیخ کا لقب دے دیا جاتا تھا یعنی آپ بھی مرتبے میں عربی مسلمان کے برابر ہو جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع میں آقا و مولا حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ اسلام میں عرب کی برتری مسلم تھی اس لیے ہندوستان کے نومسلموں کو بھی اعزازی طور پر شیخ کا لقب دے کر بزرگی کا شرف عطا کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک اعلیٰ مثال علامہ شیخ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہے ان کے اجداد برہمن تھے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر شیخ کہلائے علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد کے اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے۔

برصغیر میں ذات پات کا نظام تھا اس لیے نسل در نسل باپ دادا کے پیشے اور مرتبے سے لوگوں کی شناخت کی جاتی تھی۔ ان نو مسلم شیخوں کی اولاد شیخ کہلائی یوں ایک قوم یا برادری کی صورت آج ہمیں نظر آتی ہے۔ دراصل عرب النسل لوگ شیخ ہیں جو اپنی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں یہ شیخ صدیقی، فاروقی، عثمانی، ہاشمی اور قریشی ہیں جبکہ سید بھی عرب سے تعلق جوڑتے ہیں جن کا نسب ہاشمی بنتا ہے مگر شیخ کے بجائے سید سے پہچان رکھتے ہیں۔ عرب میں شیخ تو نام کے ساتھ لگایا جاتا ہے جیسے شیخ زید بن سلطان النہیان وغیرہ مگر سید نہیں لگایا جاتا تعظیم کے طور سید کہہ کر پکارا اور لکھا تو جاتا ہے۔   اس سے ہٹ کر دیکھیں تو چودھدری ایک منصب ہے گاؤں کے لوگ اپنے فیصلوں کے لیے ایک ثالث مقرر کر لیتے ہیں جو مقامی طور پر چودھدری کہلاتا ہے اس کی اولاد اس منصب کی وجہ سے چودھدری والے کہلاتی ہے اور نسل در نسل چودھدری ذات برادری بن جاتی ہے چودھدری ہندوستان و پاکستان ہندو و مسلم دونوں میں ملتے ہیں۔ اسی طرح کسی قوم کا کوئی شخص قاضی ہوا تو اس کی نسل قاضی کہلائی سندھ میں قاضی قوم بھی بستی ہے۔ ان کی اصل شناخت ان کی قوم ہے جس سے ان کا تعلق ہے۔

شیخ قریشی:

برصغیر میں عرب مسلمان کثیر تعداد میں آ کر آباد ہوئے جو سب شیخ کہلائے مگر اپنی الگ شناخت بھی رکھنے کی وجہ سے اپنے انساب کی بابت الگ پہچان بھی کرواتے تھے شیخ صدیقی، شیخ فاروقی، شیخ عثمانی، شیخ قریشی شیخ ہاشمی وغیرہ شیخ ہاشمی، جبکہ سید بھی شیخ ہاشمی ہیں مگر الگ سے شیخ ہاشمی بھی ملتے ہیں۔ ہاشمی اور سید مسلمانوں کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی دونوں میں ملتے ہیں۔ جبکہ باقی شیخ سب سنی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو سنی فرقے کے دونوں مسالک دیوبندی اور بریلوی سے رجوع کرتے ہیں۔

برصغیر میں بسنے والے سارے پٹھان افغان ہیں جو خان کہے جاتے ہیں مگر اپنی جدا شناخت بھی رکھتے ہیں جیسے خان یوسفزئی، خان پوپلزئی وغیرہ۔

:قریشی 

کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ قریشی لگاتے ہیں پوچھنے پر قریشی لگانے کی کوئی دلیل نہیں بتاتے ان لوگوں کے حالاتِ زندگی بتاتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جیسے پاکستان میں میراثی خود کو قریشی کہلواتے ہیں۔ جو صرف قریشی ہیں وہ عرب قریشی نہیں ہیں انھوں نے جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق قریشی قوم کا لبادہ اوڑھ لیا ہے میراثیوں کے علاوہ بھی دیگر لوگ قریشی بنے ہوئے ہیں۔ جن کی بود و باش ان کے نسب کا پتہ دیتی ہے۔

ہم شیخ قریشی اپنے نام کے ساتھ شیخ قریشی، شیخ یا صرف قریشی لگاتے ہیں جبکہ بہت سارے لوگ نام کے ساتھ ولدیت لگاتے ہیں یا پھر کوئی لاحقہ و سابقہ اختیار کیے بغیر نام بتاتے ہیں۔

عرب میں نام کے ساتھ قبیلہ قوم نہیں لکھا جاتا تھا بلکہ بن فلاں بن فلاں لکھا جاتا ہے خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نام کے ساتھ قریشی نہیں لکھا گیا جب حسب نسب کی تفصیل آتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ قریش قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اسی طرح شیخ قریشی اپنے نام کے ساتھ شیخ لگائیں یا صرف قریشی لگائیں مگر اپنے تعارف میں وہ شیخ قریشی ہیں۔ ہماری قوم کی شناخت ہمارے رشتے ناطوں میں پنہاں ہے نا ہم میں کوئی داخل ہو سکتا ہے اور نا خارج ہو سکتا ہے تاوقتیکہ کہ اس کے کسی جرم یا مذموم حرکت کے سبب اسے قوم سے سے بیدخل نا کر دیا جائے۔

وَاللہُ اَعلَمُ بِالصَّواب🙏

اتوار، 26 نومبر، 2023

ساتھی سے جیون ساتھی تک:

، میرے ساتھیو معذرت قبل از عرض!

یہ جو ساتھی ہوتا ہے کوئی غبارہ نہیں ہوتا کہ بچوں کی طرح کھیلے اور جب دل بھر گیا تو چھوڑ دیا وہ پڑے پڑے مرجھا جاتا ہے اور پھس ہو جاتا ہے۔ ساتھی ساتھ دینے کے لیے ہوتا ہے۔ ہاں ساتھی درجہ با درجہ ہوتے ہیں سب سے پہلے ساتھی ماں باپ ہوتے ہیں ماں دنیا میں آنے سے بھی پہلے سے ساتھ ہوتی ہے اور وہ ساتھ نبھاتی ہے تو ہم دنیا میں آتے ہیں مگر باپ اس سے پہلے سے ساتھی ہوتا ہے جب ہم اس کے نطفے میں ہوتے ہیں،  پھر بہن بھائی اور پھر بچپن میں ساتھ کھیلنے والے ساتھی اسکول مدرسے کے ساتھی کالج یونیورسٹی کے ساتھی اس کے بعد روزگار کے ساتھی اسی اثنا میں جیون کا ساتھی آ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ہم کہیں آتے جاتے ہیں تو ہمیں سفر کے دوران بھی ساتھی ملتے ہیں۔ جو مختصر وقت کے لیے ہوتے ہیں سفر ختم ساتھ ختم۔ 

اسی طرح مدرسہ اسکول کالج یونیورسٹی ختم ساتھ ختم روز گار ختم ساتھیوں کا ساتھ ختم، مگر ان تمام مرحلوں سے کچھ ساتھی ایسے ضرور مل جاتے ہیں جو لمبے عرصے تک ساتھ نبھاتے ہیں کچھ تو نماز جنازہ میں شرکت کے بعد لحد تک ساتھ نبھاتے ہیں۔

ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم اچھے ہیں یا ہمارے ساتھیوں میں صرف اچھائیوں ہی ہوتی ہیں بلکہ ہم اچھائیوں اور خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول ہوتے ہیں اور ساتھ نبھاتے ہیں۔

ان کے علاؤہ پڑوسی بھی ساتھی ہوتے ہیں پڑوس بدلا ساتھ چھوٹا ان میں سے بھی بہت سوں سے دیرپا ساتھ رہتا ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ پڑوسی اور ماں باپ اپنی مرضی سے نہیں ملتے۔ پڑوس اگر ناقابلِ ساتھ ہوں تو بدلے جا سکتے ہیں مگر ماں باپ بدلے نہیں جا سکتے کیونکہ ماں باپ ہمارے وجود کا موجب ہیں ان کا ساتھ نبھانا اس ساتھ کا بدل بھی نہیں جو انھوں نے ہمارے دنیا میں آنے سے قبل نبھایا تھا ہمیں تو ان جیسا ہونا ہے۔ یہاں کوئی دوسری صورت نہیں۔ بقول مشتاق احمد یوسفی کے کہ اگر ماں باپ کو اپنے آنے والی اولاد کے لچھن پہلے سے معلوم ہو جائیں تو کوئی اولاد ہی پیدا نا کرے۔

ماں باپ پیدائش سے پہلے کے ساتھی ہوتے ہیں تو ان کا ساتھ بھی ان کی وفات کے بعد تک ادا کرنا ہے۔ ہمیں بڑے ہو کر ان کی خامیاں تلاش کرنے کا حق ہی حاصل نہیں اگر یہ ہماری بچپن کی حرکتیں عام کر دیں تو ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل ہی نا رہیں۔

جیون ساتھی، شریکِ حیات کو ہم بارضا و رغبت قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہہ کر اپناتے ہیں یعنی اچھائیاں برائیاں جانے بغیر یا جانے بوجھے قبول کرتے ہیں تو اب ساری زندگی ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ اس خامیوں کو نذر انداز کریں کیونکہ اس ساتھ کا آغاز ہی قبول کرنے سے ہوا ہے۔ جیون ساتھی کا ساتھ جیون بھر خامیوں کے ساتھ ہی نبھتا ہے کیونکہ کوئی بھی خامیوں سے خالی نہیں۔ یہ آپ کا احسان ہے نا ایثار ہمارا ساتھی ہماری خامیوں پر ناصرف برہم نہیں ہوتا بلکہ ان پر پردہ ڈالتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔

میاں بیوی کے درمیان خلوص کا رشتہ کامیاب گھریلو زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی بدولت گھر امن اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے اس رشتے کے تعلق سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے ان کے اذہان پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں فطرت اور ماحول دونوں ہی اثر پذیر ہوتے ہیں ہم آہنگی رکھنے والے میاں بیوی کی اولاد فطری طور پر ہم آہنگی کے جذبات رکھتی ہے اپنے ماں باپ کے درمیان ہم آہنگی کو دیکھ کر اولاد عملی طور پر بھی ہم آہنگی پسند ہوتی جاتی ہے اور جن مراحل کا ذکر آغاز میں ذکر کیا گیا ہے وہ تمام زندگی کے مراحل خوش اسلوبی سے طے کرتی ہے۔

ہفتہ، 10 دسمبر، 2022

ابنِ بطوطہ فیفا کے تعاقب میں ⚽

مراکش اور اسپین کا صدیوں پرانا بیر ہے. جیسے پاکستان بھارت کا، شاید اس سے بھی زیادہ۔ مراکش اور اسپین کے درمیان میچ پینلٹی شوٹ آؤٹ مرحلے تک پہنچا اور مراکش نے پہلی مرتبہ  کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تو یہ فٹ بال  میچ شائقین کے لیے ایک دلچسپ مرحلہ ثابت ہوا۔ مراکش نے اسپین سے میچ جیتا تو تمام کھلاڑی میدان میں سجدہ ریز ہوئے. کوچ ولید بھاگ کر اپنی ماں کے پاس پہنچا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا. قطر ورلڈ کپ سے قبل دنیا نے ایسے مناظر نہیں دیکھے ہوں گے جیسے قطر میں دیکھنے میں آئے۔ کواٹر فائنل میں مراکش پرتگال کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ لگتا ہے تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہونے والا ہے.

فٹبال ورلڈ چیمپیئن مسلمان افریقی ملک مراکش بننے جا رہا ہے مراکش ایسے ہی جفا کش لوگوں کا ملک ہے چودھویں صدی کے اوائل میں ایک اکیس سالہ نوجوان ابو عبداللہ محمد مراکش کے شہر طنجہ سے دنیا دیکھنے نکلتے ہیں وہ حج کرنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ جب انہوں نے دنیا کو دیکھا تو پھر حج کرنے کے بعد واپس گھر جانے کے بجائے انہوں نے دنیا کا سفر کرنے کا ارادہ کرلیا اور پھر ساری زندگی سیر و سیاحت ہی میں گزار دی۔ انہوں نے جن ملکوں کا سفر کیا ان میں (آج کے ناموں کے اعتبار سے) مصر، شام، اردن، لبنان، اسرائیل، فلسطین، عراق، یمن، امارات کے ملک، سعودی عرب، ایران، ترکی، آذر بائیجان، جارجیا، روس، تاجکستان، ترکمانستان، آرمینیا، کرغستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان، مالدیپ، سری لنکا، تھائی لینڈ، برما، کمبوڈیا، ملائشیا، انڈونیشیا، چین، شمالی افریقہ کے ممالک، سوڈان، لیبیا، تیونس ،مراکش (جو کہ ان کا وطن تھا) نائیجیریا ، مالی ، اسپین، اور دوسرے ممالک شامل ہیں یہ سیاح و مورخ، ابن بطوطہ کے نام سے مشہور ہیں اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔ یورپ والوں کو انیسویں صدی میں ابن بطوطہ کے سفرنامہ کا علم ہوا۔ یورپی زبانوں سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم کیے گئے اردو میں اس سفرنامے کا ترجمہ "سفر نامہ ابنِ بطوطہ" کے نام سے دستیاب ہے۔ پاکستان کے مشہور ادیب و سیاح ابنِ انشاء نے اپنے سفر نامے کو "ابن بطوطہ کے تعاقب میں" نام دیا۔

بات چلی تھی فٹبال ورلڈ کپ میں مراکش کی شاندار کارکردگی سے "پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا" کے مصداق بات پہنچی پاکستان تک، ویسے بھی اس پورے بین الاقوامی ایونٹ میں پاکستان کا اہم کردار ہے جس کا ذکر کم کم ہی ہو رہا ہے۔


 

ہفتہ، 13 اگست، 2022

قومی کھیل اور آسٹروٹرف


پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے متعدد بار ہاکی ورلڈ کپ جیتنے کئی بار عالمی اولمپک کھیلوں میں سونے کے میڈل جیتنے ایشیائی چیمپیئن رہنے کے باوجود ہاکی کا کھیل سرکاری سطح پر بےاعتنائی کا شکار رہا ہاکی کے کھلاڑیوں پر وہ نوازشیں کبھی نا ہوئیں جو کرکٹ کے کھلاڑیوں پر ہوتی رہیں۔ اب ہاکی کے اسٹیڈیم بھی اجاڑے جا رہے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہاکی قدرتی گھاس پر کھیلی جاتی تھی لیکن ستر کی دہائی میں آسٹروٹرف کو دنیا میں متعارف کرایا گیا جو ایک مصنوعی گھاس کا سینتھیٹک قالین ہوتا ہے۔ آسٹروٹرف کی بھی مختلف اقسام اب آچکی ہیں جن پر ہاکی کھیلی جاتی ہے۔

پہلے اس کا رنگ سبز ہوتا تھا لیکن اب یہ نیلے رنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں پہلا آسٹروٹرف کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں بچھائی گئی تھی۔ بعد میں اسے عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہاکی کی پہچان رہا ہے۔ سن انیس سو اسی میں دوسری چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر یہاں پاکستان کی پہلی آسٹروٹرف بچھائی گئی تھی اس کا رنگ سبز تھا اتفاق سے ۱۹۸۴ میں اس آسَٹروٹرف پر شوقیہ میچ کھیلنے کا موقع ملا جس سے اندازہ ہوا کہ آسٹروٹرف گھاس نما ریشوں پر مشتمل دبیز کھالین ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کی ۲۰۱۸ میں تزئین و آرائش کی گئی اب اس میں نیلے رنگ کی آسٹروٹرف بجھائی گئی ہے۔

لاہور ہاکی اسٹیڈیم کی آسٹروٹرف بھی نیلے رنگ کی تھی یہ آسٹروٹرف ۲۰۱۳ میں چار کروڑ روپے کی لاگت سے بچھائی گئی تھی جو اب ہٹائی جا رہی ہے کھیل کے میدان میں اب سیاسی کھیل ہو گا۔ کھلاڑی نے ۱۳ اگست کے جلسے کے لیے لاہور ہاکی اسٹیڈیم کا انتخاب کیا ہے۔ جہاں پاکستان کے ہر گول پر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے تھے اب وہاں کرکٹ کے آل راونڈر پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کے نعرے وجن گے۔ سابق ہاکی اسٹار نے اس فیصلے کو ہاکی کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے سابق اولمپیئن انجم سعید کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے وہ بطور کھلاڑی اس پر زیادہ بات نہیں کر سکتے لیکن ایک عالمی معیار کے ہاکی گراؤنڈ کو سیاسی جلسے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ میجر ریٹائرڈ پیر زادہ نے کہا کہ ہاکی اسٹیڈیم سے آسٹرو ٹرف کیوں اکھاڑی گئی اسٹیڈیم جلسہ گاہ نہیں ہے اسے جلسے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اتوار، 24 جولائی، 2022

۱۹۷۷ کے بعد کراچی میں شدید بارشیں ۲۰۲۲

30، جون 1977 کی یادگار بارشوں کے بعد اس سال ریکارڈ بارشیں ہوئیں یوں تو ایک دو سال چھوڑ کر کراچی میں بارشیں ہوتی رہیں جسے انتظامیہ ریکارڈ توڑ بارشیں بتا کر اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس زمانے میں پری مون سون کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی اور پی ٹی وی خبرنامے سے موسم کا حال بتایا جاتا تھا اور بارش کی پیمائش کا پیمانہ بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا چار گھنٹے موسلادھار بارش ہوئی کہا جاتا ہے تقریباً 8 انچ 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی تھی مختلف افواہیں بھی عام گشت کر رہی تھیں جن میں سب سے مضحیکہ خیز یہ تھی کہ دو چار گھنٹے اور بارش ہوتی تو حبیب بینک پلازہ کی 23 میں سے 20 منزلیں ڈوب جاتیں ویسے اگر اب بھی 200 ملی میٹر بارش کی پیشگوئی ہے مگر واقعی وہ طوفانی بارش ایک ریکارڈ یوں بھی ہے کہ صرف چار گھنٹوں میں 200 ملی میٹر اور اس کے ساتھ ہفتے بھر کی جھڑی لگی رہی چار گھنٹے کی طوفانی بارش کا پانی ریلوں کی شکل میں کراچی کی ندیوں میں گیا جس کی وجہ سے ان ندیوں کے قریبی علاقوں میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا تین ہٹی کی ندی پل کے ساتھ بہہ رہی تھی ندی کی پل تک بلندی تقریباً حبیب بینک پلازہ کی بیس منزلوں کے برابر تو ہو گی لامحالہ ندی میں پڑی جھونپڑیاں بہہ گئیں یہ ہی حال لیاری ندی کا تھا جس پر 1978 میں پی ٹی وی سے "بارش" یادگار ڈرامہ بھی نشر کیا گیا تھا کورنگی کا شہر سے ہفتوں رابطہ منقطع رہا۔ ملیر برساتی ندی پر بنا نیا پل ایک طرف سے بیٹھ گیا تھا۔ یہ کراچی میں سیاسی فساد کا زمانہ تھا اس کے چند دن بعد 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔
آج کے تیز رفتار میڈیا کے دور میں نئی نئی اصطلاحات سنے میں آتی ہیں جیسے بیانیہ شاید بیانیہ بیان اور موقف کا ملغوبہ ہے اسی طرح مون سون بارشوں سے متعلق قبل از مون سون، مون سون اور بعد از مون سون جبکہ پاکستان کے خطے میں چار ماہ بارشیں شروع سے ہی ہوتی ہیں برصغیر پاک و ہند میں موسموں کی تقسیم چار ماہ سردی چار ماہ گرمی اور چار ماہ برسات ہے سردیوں کی آمد سے قبل 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک خزاں اور سردیوں کی رخصت کے ساتھ 15 فروری سے 15 مارچ تک بہار رت ہوتی ہے اسی مناسبت سے ربیع اور خریف کی فصلیں کہلاتی ہیں اساڑ، ساون، بھادوں اور کنوار یعنی 15 جون سے 15 ستمبر تک برسات کا موسم ہوتا ہے۔ مون سون کی درجہ بندی کے ساتھ بارش کے پیمانے بھی اپنے اپنے ہیں کوئی 100 ملی میٹر بتاتا ہے تو کوئی 80 ملی میٹر اور کوئی 110 ملی میٹر بتاتا ہے انتظامیہ دو سے ضرب دے کر شہر کی حالت آسمانی آفت قرار دیتی ہے 1977 میں شہر کا سیوریج کا نظام بہتر تھا شہر کا پانی آناً فاناً نالوں سے ہوتا ہوا ندی تک پہنچ گیا جہاں کم وقت میں اتنے زیادہ پانی سے طغیانی آ گئی جس سے ندی کے قریب کی آبادیاں متاثر ہوئیں پورے شہر کی حالت اتنی زیادہ بارشوں میں بھی بہتر رہی۔ خاص طور پر فیڈرل بی ایریا اور لیاقت کی حالت بہت بہتر رہی وقتی طور پر تو گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا لیکن بارش تھمنے کے ڈیڑھ دو گھنٹے بعد گلیوں سے پانی نکل گیا کہیں نشیب میں پانی رک بھی گیا تو سوئیپرز نے برشوں کے ذریعے سوت دیا۔

اب سیوریج کا نظام برباد ہو چکا ہے گلیوں اور گلیوں سے ملحقہ راستوں کے گٹر عام دنوں میں بھی بند رہتے ہیں بارش کا پانی سیوریج کے راستے سے نہیں نکل پاتا اگر کہیں گٹر میں چلا بھی جاتا ہے تو آگے لائن بند ہونے کی وجہ سے وہاں گٹر ابل پڑتے ہیں یوں ابلتے گٹروں اور بارش کا پانی ناصرف گلیوں میں کھڑا رہتا ہے بلکہ گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے شہریوں کی قیمتی اشیاء برباد ہو جاتی ہیں جس کا سرکاری سطح پر کوئی تخمینہ بھی نہیں لگایا جاتا لہذا ازالہ بھی نہیں کیا جاتا۔ پورا شہر مہینوں گٹر باغیچہ بنا رہتا ہے۔ کراچی کو نکاسی آب کے مربوط نظام کی اشد ضرورت ہے سیوریج کے نظام کی خرابی کی وجہ سے بارشوں سے قبل انتظامیہ شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ Urban flood کا خطرہ ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آگاہی کا کیا کریں کیا اپنے اپنے گھروں کے آگے بند بنا لیں پہلے کراچی شہر کے لوگ صوبے کے دیہی نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے کی صورت میں ان کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ حکومتی سطح پر بھی نقصان کا ازالہ کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے کراچی کے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

اتوار، 26 جون، 2022

جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا🦚

 جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، یہ محاورہ سب ہی نے سنا ہو گا مور صحرائی و کوہستانی جنگل کا پرندہ ہے۔ مور سے بہت سی کہانیاں منسوب کر لی گئیں ہیں جیسے جنگل میں مور کے ناچنے والی بات اور اس سے جڑی کہانی کہ مور جب ناچتا تو اپنے پیر دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتا ہے مور اپنے رنگین پروں کی وجہ سے بہت حسین ہے جبکہ اس کے پیر دیگر پرندوں کے جیسے ہی ہوتے ہیں یہ بات مور کو بہت ناگوار لگتی ہے جب مور ناچ کے اختتام پر اپنے پیر دیکھتا تو اس کے آنسو نکل آتے ہیں اور یہ آنسوں مور مادہ یعنی مورنی چوس لیتی جس سے مور کی افزائش نسل ہوتی ہے دیگر چرند و پرند کی طرح تولیدی عمل نہیں ہوتا۔ اس لیے مور کو پاک پرندہ تصور کیا جاتا ہے اس کے پر بھی پاک سمجھے جاتے ہیں جنھیں پاک سمجھ کر مذہبی کتب میں نشانی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہیں یہ تصور برصغیر کے ہندو اور مسلمانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ عہد حاضر کے ذرائع ابلاغ نے ان تصورات کو زائل کر دیا کہ مور تولیدی عمل سے مبرا ہے اس کا ناچنا عام دیگر پرندوں کی طرح اپنی مادہ کو لبھانے کا ویسا ہی انداز ہے جیسے کبوتر غٹک کر اور دیگر پرندے مختلف آواز و سکنات سے اپنی مادہ کو لبھاتے ہیں۔

مور کی آواز سریلی نہیں ہوتی۔ لیکن تولیدی زمانے میں اس کی آواز میں رعنائی آجاتی ہے۔ مور مون سون کی بارشوں میں مخصوص آوازیں نکال کر بارش کی خبر دیتا ہے یہ بارشوں کا زمانہ اس کی افزائش نسل کا وقت ہوتا ہے۔

مور ایشیائی اور افریقی ممالک میں پایا جاتا ہے، مور کے سر پر ایک تاج ہوتا ہے اس کا جسم رنگین پروں سے مزین ہوتا ہے جبکہ بالغ مادہ مورنی اکثر بھورے رنگ کی ہوتی ہے اگر جغرافیائی حساب سے دیکھا جائے تو ہمیں مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں کے مور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان کے ہر علاقے میں مور پائے جاتے ہیں سندھ میں تھرپارکر کے نیلے رنگ کے مور زیادہ دیدہ زیب ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ پنجاب میں  کلر کہار کو موروں کی وادی کہا جاتا ہے 1984 میں کلر کہار جانے کا اتفاق ہوا وہاں مور کھلے عام گھومتے ہوئے باچشم خود دیکھے ایک درخت سے دوسرے درخت پر اڑ کر جاتے ہوئے مور انتہائی حسین و دلکش لگتے ہیں تب پتہ چلا تھا کہ مور اڑ بھی سکتے ہیں جبکہ مور زیادہ تر وقت زمین پر رہتے ہیں، چونکہ مور زمین پر رہنے والا پرندہ ہے اس لیے وہ اڑنے کے بجائے بھاگنے کو ترجیح دیتا ہے مور 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے جو کہ دوسرے زمینی پرندوں کی رفتار کے مقابلے میں کافی تیز ہے۔

مور سے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے دل بار بار کہہ رہا ہے "ڈو مور" اس ضمن میں سانپ اور مور کا ذکر بھی بہت اہم تھا یہ تحریر فی البدیہ ہے مزید لکھنے کے لیے پڑھنا پڑے گا یا چھٹے امام گوگل سے رجوع کرنا ہوگا۔ ویسے اس کا جواب چچا گوگل سے بھی نہیں ملا کہ "چور کو پڑ گئے مور" میں مور مذکور ہے یا "ڈو مور" ہے