منگل، 11 اکتوبر، 2016

دیوالی ایک تیوھار مختلف منسوبات:


دنیا بھر میں تمام مذاہب سے وابستہ کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جنہیں خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ان تہواروں کو مذہبی عقیدت اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔آج کل ہندو مذہب کے تہوار دیوالی کے دن ہیں جو کہ ہندو مذہب کے مذہبی تہواروں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آئیے یہ جانتے ہیں کہ دیوالی کے تہوار کا تاریخی اور مذہبی پس منظر کیا ہے۔
دیوالی/ دیپاولی ایک قدیم ہندو تہوار/ تیوہار ہے یہ تہوار اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، برائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر امید کی فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس تہوار کی تیاریاں 9 دن پہلے سے شروع ہوجاتی ہیں اور دیگر رسومات مزید 5 دن تک جاری رہتی ہیں۔ اصل تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار شمسی، قمری ہندو تقویم کے مہینے کاتک میں منایا جاتا ہے۔ گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر سے وسط نومبر میں آتا ہے۔

دیوالی کی رات سے پہلے ہندو پیروکار گھروں کی مرمت، تزئین و آرائش، رنگ و روغن کرتے ہیں۔ دیوالی کی رات کو ہندو پیروکار نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف شکلوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر گلیوں میں بھی رکھے جاتے ہیں۔ دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے اور پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔ بعد میں سارے خاندان والے اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جہاں دیوالی منائی جاتی ہے وہاں دیوالی کو ایک بہتریں تجارتی موسم بھی کہا جاتا ہے۔
دیوالی ہندوستان کا اہم تہوار ہی نہیں بلکہ اہم رسم یا رواج بھی ہے بھارت کے مختلف علاقوں میں یہ تہوار مختلف انداز میں منایا جاتا ہے اس رات کو جین پیروکار مہاویر کے موکش (نجات) پانے کی خوشی میں جشن چراغاں کے طور پر دیوالی مناتے ہیں سکھ پیروکار بندی چھوڑ دیوس کے نام سے مناتے ہیں۔ بہت سے ہندو مہابھارت کے مطابق پانڈو کے ۱۲ سالہ بن باس اور ایک سالہ اگیات واس سے واپسی کی خوشی کے اظہار کے طور پر مناتے ہیں۔ ہندو اکثریت رامائن کے حوالے سے شری رام، سیتا اور لکشمن کے بن باس سے واپس آنے کی خوشی میں دیوالی مناتے ہیں۔ دیوالی کی رات آنے سے ۱۰ دن قبل سے دسیرہ منایا جاتا ہے جس میں رام رام لیلا ھوتا ہے رام لیلا میں روڈوں پر جلوس نکالے جاتے ہیں کھلے مقامات پر رام اور راون کی لڑائی کو تمثیلی انداز میں پیش کیا جاتا ہے جس میں ھنومان (بندر) کے کردار کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے جو لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہوتا ہے ان رام لیلا کے پروگراموں میں جو مختلف جگہوں پر منعقد ھوتے ہیں ان میں بھارتی بھاری تعداد میں شریک ہوتے ہیں اس طرح یہ مذہبی تہوار ایک قومی میلے کا منظر پیش کرتا ہے جس میں بچے اور نوجوان خاص طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں بھارت میں دیوالی کے ایام سرکاری تعطیل ہوتی ہے بھارت کے ساتھ ساتھ نیپال، ماریشس، سری لنکا، میانمار، گیانا، ملیشیا، سنگاپور اور فجی میں بھی دیوالی سرکاری تہوار ہے۔

جمعرات، 6 اکتوبر، 2016

آقا کی سنت دین و دنیا کی بھلائی:

پانی بیٹھ کر پینا افضل ہے ایسی کوئی حدیث مستند نہیں کہ اگر پانی کھڑے ھوئے پی لیا تو الٹی کر کے واپس پلٹ دو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث و سنت پر عمل کرنا ہمارے فائدے اور نقصان سے بچاو کے لیے ہے۔ کپڑے جھاڑ کر پہنا سنت ہے اس میں حکمت ہے اگر کپڑوں میں کوئی موذی حشرات العرض وغیرہ بیٹھا یا چھپا ہوا ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے وہ جھڑنے سے نکل جائے گا اب یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اگر کپڑے بغیر جھاڑے پہن لیے تو واپس اتار کر جھاڑ کر دوبارہ پہنوں کیوں کہ اگر بغیر جھاڑے کپڑے پہنے اور ان میں موذی کیڑا مکوڑا تھا تو وہ فورا کاٹے گا تب تک تو نقصان ہو چکا ہوگا اسی طرح پانی اگر کھڑے ہوئے پی لیا اور ہمارے اوسان اور کیفیت اس وقت درست نہیں تھے گھبراہٹ کی حالت تھی اس صورت میں پانی پینا صحت پر برے اثرات مرتب کر سکتا ہے جس سے نقصان کا احتمال ہے اس لیے بیٹھ کر پانی پینا افضل ہے ایک تو بیٹھنے سے طبیعت میں سکون آجاتا ہے اور دوسرے ہوس و حواس بحال ہو جائیں گے جس سے ہم پانی دیکھ کر پیئں گے کہ اس میں کوئی مضر چیز تو نہیں پڑی ہوئی پانی دیکھ کر پینا بھی سنت ہے کھڑے ہوئے گھبراہٹ کی حالت میں ایک دم ڈگ ڈگ پانی پینے سے پھندہ بھی لگ سکتا ہے جس سے پانی ناک کی طرف جا سکتا ہے اور دماغ کی طرف بھی جو انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے بیٹھ کر پانی اطمینان سے پیا جائے گا بہتر ہے پانی ٹھہر ٹھہر کر تین گھونٹ میں پیا جائے تین گھونٹ میں پانی پینا بھی سنت ہے اور ہر وقفے میں تسبیحات پڑھنا چاہئیں جو اللہ تعالی کی حمد ثنا ہے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرنا براہ راست عبادت ہے اس طرح سنت کے مطابق پانی پینے سے سنت پر عمل پیرا ھونے کا ثواب بھی ملے گا جس کا اجر آخرت میں ملے گا اور نقصان سے بچاو کی صورت میں دنیاوی فائدہ تو نقد ملے گا۔

جمعرات، 22 ستمبر، 2016

اختیار اور اقتدار کا گورکھ دھندہ:


اسٹیبلشمنٹ کے لغوی معنے کچھ بھی ہوں لیکن اس کے رائج معنے بااختیار افراد یا گروہ ہے جو اپنے مفاد کے لیے متحرک رہتا ہے اس کے لیے حاصل اختیار کا بے دریغ استعمال کرتا ہے یہ اداروں، ملک اور دنیا میں من مانی کرتا ہے اس کے لیے ایسے افراد کے ٹولے تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر دانشور لیکن درحقیقت بے وقوف ہوتے ہیں _
اسٹییبلشمنٹ کی حکمت عملی شاطرانہ چالوں اور مکاری پر مبنی ہوتی ہے اس لیے وہ جو افراد منتخب کرتی ہے ان سے مفادات اس طرح حاصل کرتی ہے کہ انھیں خود یہ پتہ بھی نہ چلے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے اس ٹولے کو ایسا لگتا ہے کہ یہ مفاد عامہ کا کام کر رہا ہے اس طرح یہ ٹولے پھلتے پھولتے رہتے ہیں تا وقت کہ اسٹیبلشمنٹ کا مفاد پورا ہوتا رہے اس بااختیار گروہ کی ترجیح ہوتی ہے کہ اس پورے ٹولے کو ایک شخص یا چند افراد کے ذریعے رابطے میں رکھے اور مز ید لوگ انکے مرہون منت رہیں اس ٹولے کو بے پناہ مراعات سے نوازا جاتا ہے یہ ٹولہ عام لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ یہ ان کے حقوق کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے برسرپیکار ہے مگر یہ اپنے سے وابستہ افراد کو فیضیاب کرتا ہے جن کے ذریعے معاشرے میں اپنا دبدبہ قائم کرتا ہے اس طرح یہ ٹولہ خود کو افضل الاشرف المخلوقات سمجھنے لگتا ہے اس وقت انھیں انکے دماغ کا خناس اسٹیبلشمنٹ کے مقا بل لے آتا ہے یہ اس وقت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ ان کا حساب کتاب کرنے کا تہیہ کر لیتی ہے اس کے لیے اس ٹولے کے زیر اثر یا انکے نزدیکی لوگو ں کا چناؤ کرتی ہے ان کے ذریعے انکی کردار کشی کرواتی ہے تاکہ انکے پیروکار اس گروہ کے خاتمہ پر مزاحمت نہ کریں بلکہ وہ لوگ خود یہ کہیں کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ تو تھی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اور ایسا وہی لوگ با آواز بلند کہتے ہوۓ نظر آتے ہیں جو انکے اچھے وقتوں میں ان مراعات اور اختیارات کے مزے اڑا رہے ہوتے ہیں جو انھیں اسٹیبلشمنٹ سے خدمت کے صلے میں ملتے ہیں اب یہ ٹولہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ سے جاہ و جلال ملنے کا خواب دیکھتا ہے اور اپنے پرانے ساتھیوں کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے یہ سب کچھ اس چالاکی سے کیا جاتا ہے کہ وہ غلط لگنے لگتا ہے اور یہ صحیح ہو جاتا ہے کیونکہ یہ سارا کھیل مفادات کا ہے لہذا اس ٹولے کے لوگ اپنے مفادات کو جاری اور ساری رکھنے کے لیے اس ٹولے میں آ جاتے ہیں وہ لوگ جو اس ٹولے سے مفادات کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے ناراض ہو کر الگ ہو گئے تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کچھ نئے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں یا شامل کر لیے جاتے ہیں اس طرح یہ گورکھ دھندہ چلتا رہتا ہے _
برصغیر پر انگریز کے قبضے کے بعد انگریز اسٹیبلشمنٹ نے برصغیر پر مکمل اختیار اور اقتدار کے دوام کے لیے ایسی ہی حکمت عملی اپنائی معاشرتی پسے ہوۓ طبقے کو چپڑاسی، کلرک کی نوکریاں دیں دیہاتیوں کو فوج میں بھرتی کیا شہری غریب طبقے کو ریلوے. ڈاک خانوں اور دوسرے اداروں میں ملازمتیں دیں ایسا براہ راست نہیں کیا بلکہ اپنے مفاد میں استعمال ہونے والے افراد اور ٹولوں کے ذریعے کیا اس سے ایک تو عام انسان کو اپنا گرویدہ کیا تو دوسری جانب اپنے ہندوستانی حلیف افراد و ٹولوں کو احسان تلے دبایا جس سے ہندوستان میں انگریز کو اقتدار میں مزاحمت نہ ہونے کے برابر رہی سر کردہ پڑھے لکھنے لوگوں کو القابات اور نسبتا" بہتر ملازمتیں دیں انھوں نے اپنے قلم کے ذریعے انگریز کی قصیدہ گوئی کی ۱۸۵۷ جسے برصغیر کا عام باشندہ جنگ آزادی کہتا ہے ان پڑھے لکھے انگریز سے مراعات یافتگان نے غدر اور بغاوت سے موسوم کیا اور صلے میں سر کا خطاب پایا اور جو زراعت سے وابستہ سرکردہ افراد تھے انھیں زمینوں اور جاگیروں سے نوازا اس کے بدلے پورے گاؤں کی حمایت حاصل کی انسانوں کو مارنےکے پرمٹ بھی جاری کیے اس کے لیے خان بہادر کا لقب دے کر سات خون معاف اور چودہ خون معاف کر دیے گئے یہ سب انگریز اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرتے تھے اس سے ہندوستان میں معززین کے نئے طبقے بنے عام دوکاندار کاریگر مزدور کے مقابلے میں انگریز کا چپڑاسی معزز ہو گیا ایسا نادانستہ نہیں ہوا بلکہ دانستہ طور پر کیا گیا اس زمانے میں کاروباری کھاتے پیتے افراد جو لباس ہہنتے تھے اس کو چپڑاسیوں کا یونیفارم قرار دے دیا اسٹیبلشمنٹ کا ایک حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو خود سے آسودہ اور اسٹیبلشمنٹ کے حواری ٹولوں کی کاسہ لیسی سے آزاد ہوتے ہیں انھیں پسپا کرکے ان کی جگہ اپنے کاسہ لیسوں کو لانے کی کوشش کرتی ہے اس سے معاشرے میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مفادات کے لیے کام کرنے والے ٹولوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور عام انسان کے لیے انتہائی پریشانی کا سبب ہوتی ہے اور اس صورتحال سے اسٹیبلشمنٹ کے پلے ہوۓ ٹولے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ایک تو اپنا خوف قائم رکھنے میں آسانی ہوتی ہے تو دوسری طرف ان خوف زدہ لوگوں سے جبری نذرانے وصول کرتے ہیں اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ ان کا وجود ان کے ہونے سے ہے اور انہیں یہ نذرانے نہیں دیں گے تو ان کا کاروبار کرنا تو درکنار ان کا زندہ رہنا بھی دشوار ہو جاۓ گا نااہل افراد اور ٹولے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے مالدار، باعزت اور اشرف ہو گئے اور محنت کی کمائی اور عزت نفس کے ساتھ جینے والوں کا جینا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔