بدھ، 12 فروری، 2014

عالمی امن:


مذاہب عالم کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ہر مذہب لڑنے ہی سے روکتا ہے اور زندگی امن سے گذارنے کی تلقین کرتا ہے اور امن تب ہی قائم ہوسکتا ہے جب تبلیغ کے بجاۓ اس پر عمل کیا جاۓ کیونکہ تمام مذاہب میں محبت کی تعلیم دی گئی ہے اگر ایک دوسرے سے محبت کرنے کا عمل فروغ پا جاۓ تو اپنے اتنے مذہب کے لئے لڑنے کا فتنہ ہی ختم ہوجاۓ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو مانیں نہ مانے برا یا غلط کہنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے عہد حاضر میں کسی کے مذہب کو نہ ماننے کا مسئلہ نہیں بلکہ دوسرے مذہب کی تعلیم اور شخصیات کو برا اور غلط کہنا فساد کی جڑ ہے بے عمل اور اپنے اپنے مذہب کی ادھوری تعلیم رکھنے والے دوسروں کے مذہب اور شخصیات کو غلط یا برا کہہ کر خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت کے بموجب عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور شدید جواب آتا ہے نتجتا" نفرتیں بڑھتی ہیں اس سارے گورکھ دھندے کا حل یہ ہے کہ اپنے عقیدے پر عمل کرو اور دوسرے کے عقیدے پامال نہ کرو.


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں