حضرت عبیداللہ بن ابی رافع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن ؓ بن علی ؓ کی ولادت کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا''۔
بچے کی پیدائش پر کان میں اذان دینا اسلامی شعار ہے اذان اس امر کا اعلان ہوتا ہے کہ رحم مادر سے دنیا میں بھیجنے والا اللہ ہے جس نے رحم مادر میں تجھے اپنے رحم سے مدت پوری ہونے تک محفوظ رکھا وہ بزرگی والا ہے اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں اس اقرار کا پاس تاحیات کرنا ہے۔
اذان کے آغاز میں اللّٰہ کی بزرگی بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ اس حقیقت کو چار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ سننے والے کی لوح دل پر یہ نقش ثبت ہو جائے اس کے بعد اذان دینے والا گواہی دیتا ہے کہ اللّٰہ کے سوا اور کوئی اللّٰہ نہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ جملہ دوبار دہراتا ہے تاکہ سننے والے بچے کے دل و دماغ میں کوئی شک نہ رہے۔ بعد ازاں دوسری صداقت کی دو مرتبہ گواہی دیتا ہے۔ جس نے ہمیں یہ بتایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اس کے بعد مقصد حیات اللّٰہ کی عبادت کرنے کے لیے پکارا جاتا ہے ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف‘‘ یعنی اللّٰہ کی عبادت کے لیے تیار ہو جاؤ یہی نماز دونوں جہانوں میں سرفراز ہونے کا ذریعہ ہے اسی حاضری میں تمہاری فلاح ہے۔ آؤ فلاح کی طرف، آؤ فلاح کی طرف۔ پھر اذان کی ابتداء میں بیان کردہ حقیقت کو دو بار اور دہرایا جاتا ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر آخر میں دین اسلام کے اعلیٰ ترین اعلان کے ساتھ پیغام مکمل ہوتا ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
«مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ»

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں