شیخ:
شیخ کے معنے عرب کے باشندے کے ہیں جیسے افغانستان کے لوگ خان کہلاتے ہیں۔ اور ہالینڈ کے ڈچ وغیرہ وغیرہ۔ برصغیر میں ہندوستان کے مقامی لوگ جب کسی عرب شیخ کے ہاتھ پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تو بطور عزت شیخ کا لقب دے دیا جاتا تھا یعنی آپ بھی مرتبے میں عربی مسلمان کے برابر ہو جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع میں آقا و مولا حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ اسلام میں عرب کی برتری مسلم تھی اس لیے ہندوستان کے نومسلموں کو بھی اعزازی طور پر شیخ کا لقب دے کر بزرگی کا شرف عطا کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک اعلیٰ مثال علامہ شیخ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہے ان کے اجداد برہمن تھے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر شیخ کہلائے علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد کے اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے۔
برصغیر میں ذات پات کا نظام تھا اس لیے نسل در نسل باپ دادا کے پیشے اور مرتبے سے لوگوں کی شناخت کی جاتی تھی۔ ان نو مسلم شیخوں کی اولاد شیخ کہلائی یوں ایک قوم یا برادری کی صورت آج ہمیں نظر آتی ہے۔ دراصل عرب النسل لوگ شیخ ہیں جو اپنی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں یہ شیخ صدیقی، فاروقی، عثمانی، ہاشمی اور قریشی ہیں جبکہ سید بھی عرب سے تعلق جوڑتے ہیں جن کا نسب ہاشمی بنتا ہے مگر شیخ کے بجائے سید سے پہچان رکھتے ہیں۔ عرب میں شیخ تو نام کے ساتھ لگایا جاتا ہے جیسے شیخ زید بن سلطان النہیان وغیرہ مگر سید نہیں لگایا جاتا تعظیم کے طور سید کہہ کر پکارا اور لکھا تو جاتا ہے۔ اس سے ہٹ کر دیکھیں تو چودھدری ایک منصب ہے گاؤں کے لوگ اپنے فیصلوں کے لیے ایک ثالث مقرر کر لیتے ہیں جو مقامی طور پر چودھدری کہلاتا ہے اس کی اولاد اس منصب کی وجہ سے چودھدری والے کہلاتی ہے اور نسل در نسل چودھدری ذات برادری بن جاتی ہے چودھدری ہندوستان و پاکستان ہندو و مسلم دونوں میں ملتے ہیں۔ اسی طرح کسی قوم کا کوئی شخص قاضی ہوا تو اس کی نسل قاضی کہلائی سندھ میں قاضی قوم بھی بستی ہے۔ ان کی اصل شناخت ان کی قوم ہے جس سے ان کا تعلق ہے۔
شیخ قریشی:
برصغیر میں عرب مسلمان کثیر تعداد میں آ کر آباد ہوئے جو سب شیخ کہلائے مگر اپنی الگ شناخت بھی رکھنے کی وجہ سے اپنے انساب کی بابت الگ پہچان بھی کرواتے تھے شیخ صدیقی، شیخ فاروقی، شیخ عثمانی، شیخ قریشی شیخ ہاشمی وغیرہ شیخ ہاشمی، جبکہ سید بھی شیخ ہاشمی ہیں مگر الگ سے شیخ ہاشمی بھی ملتے ہیں۔ ہاشمی اور سید مسلمانوں کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی دونوں میں ملتے ہیں۔ جبکہ باقی شیخ سب سنی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو سنی فرقے کے دونوں مسالک دیوبندی اور بریلوی سے رجوع کرتے ہیں۔
برصغیر میں بسنے والے سارے پٹھان افغان ہیں جو خان کہے جاتے ہیں مگر اپنی جدا شناخت بھی رکھتے ہیں جیسے خان یوسفزئی، خان پوپلزئی وغیرہ۔
:قریشی
کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ قریشی لگاتے ہیں پوچھنے پر قریشی لگانے کی کوئی دلیل نہیں بتاتے ان لوگوں کے حالاتِ زندگی بتاتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جیسے پاکستان میں میراثی خود کو قریشی کہلواتے ہیں۔ جو صرف قریشی ہیں وہ عرب قریشی نہیں ہیں انھوں نے جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق قریشی قوم کا لبادہ اوڑھ لیا ہے میراثیوں کے علاوہ بھی دیگر لوگ قریشی بنے ہوئے ہیں۔ جن کی بود و باش ان کے نسب کا پتہ دیتی ہے۔
ہم شیخ قریشی اپنے نام کے ساتھ شیخ قریشی، شیخ یا صرف قریشی لگاتے ہیں جبکہ بہت سارے لوگ نام کے ساتھ ولدیت لگاتے ہیں یا پھر کوئی لاحقہ و سابقہ اختیار کیے بغیر نام بتاتے ہیں۔
عرب میں نام کے ساتھ قبیلہ قوم نہیں لکھا جاتا تھا بلکہ بن فلاں بن فلاں لکھا جاتا ہے خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نام کے ساتھ قریشی نہیں لکھا گیا جب حسب نسب کی تفصیل آتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ قریش قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اسی طرح شیخ قریشی اپنے نام کے ساتھ شیخ لگائیں یا صرف قریشی لگائیں مگر اپنے تعارف میں وہ شیخ قریشی ہیں۔ ہماری قوم کی شناخت ہمارے رشتے ناطوں میں پنہاں ہے نا ہم میں کوئی داخل ہو سکتا ہے اور نا خارج ہو سکتا ہے تاوقتیکہ کہ اس کے کسی جرم یا مذموم حرکت کے سبب اسے قوم سے سے بیدخل نا کر دیا جائے۔
وَاللہُ اَعلَمُ بِالصَّواب🙏
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں