پانی بیٹھ کر پینا افضل ہے ایسی کوئی حدیث مستند نہیں کہ اگر پانی کھڑے ھوئے پی لیا تو الٹی کر کے واپس پلٹ دو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث و سنت پر عمل کرنا ہمارے فائدے اور نقصان سے بچاو کے لیے ہے۔ کپڑے جھاڑ کر پہنا سنت ہے اس میں حکمت ہے اگر کپڑوں میں کوئی موذی حشرات العرض وغیرہ بیٹھا یا چھپا ہوا ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے وہ جھڑنے سے نکل جائے گا اب یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اگر کپڑے بغیر جھاڑے پہن لیے تو واپس اتار کر جھاڑ کر دوبارہ پہنوں کیوں کہ اگر بغیر جھاڑے کپڑے پہنے اور ان میں موذی کیڑا مکوڑا تھا تو وہ فورا کاٹے گا تب تک تو نقصان ہو چکا ہوگا اسی طرح پانی اگر کھڑے ہوئے پی لیا اور ہمارے اوسان اور کیفیت اس وقت درست نہیں تھے گھبراہٹ کی حالت تھی اس صورت میں پانی پینا صحت پر برے اثرات مرتب کر سکتا ہے جس سے نقصان کا احتمال ہے اس لیے بیٹھ کر پانی پینا افضل ہے ایک تو بیٹھنے سے طبیعت میں سکون آجاتا ہے اور دوسرے ہوس و حواس بحال ہو جائیں گے جس سے ہم پانی دیکھ کر پیئں گے کہ اس میں کوئی مضر چیز تو نہیں پڑی ہوئی پانی دیکھ کر پینا بھی سنت ہے کھڑے ہوئے گھبراہٹ کی حالت میں ایک دم ڈگ ڈگ پانی پینے سے پھندہ بھی لگ سکتا ہے جس سے پانی ناک کی طرف جا سکتا ہے اور دماغ کی طرف بھی جو انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے بیٹھ کر پانی اطمینان سے پیا جائے گا بہتر ہے پانی ٹھہر ٹھہر کر تین گھونٹ میں پیا جائے تین گھونٹ میں پانی پینا بھی سنت ہے اور ہر وقفے میں تسبیحات پڑھنا چاہئیں جو اللہ تعالی کی حمد ثنا ہے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرنا براہ راست عبادت ہے اس طرح سنت کے مطابق پانی پینے سے سنت پر عمل پیرا ھونے کا ثواب بھی ملے گا جس کا اجر آخرت میں ملے گا اور نقصان سے بچاو کی صورت میں دنیاوی فائدہ تو نقد ملے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں