جمعرات، 22 ستمبر، 2016

اختیار اور اقتدار کا گورکھ دھندہ:


اسٹیبلشمنٹ کے لغوی معنے کچھ بھی ہوں لیکن اس کے رائج معنے بااختیار افراد یا گروہ ہے جو اپنے مفاد کے لیے متحرک رہتا ہے اس کے لیے حاصل اختیار کا بے دریغ استعمال کرتا ہے یہ اداروں، ملک اور دنیا میں من مانی کرتا ہے اس کے لیے ایسے افراد کے ٹولے تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر دانشور لیکن درحقیقت بے وقوف ہوتے ہیں _
اسٹییبلشمنٹ کی حکمت عملی شاطرانہ چالوں اور مکاری پر مبنی ہوتی ہے اس لیے وہ جو افراد منتخب کرتی ہے ان سے مفادات اس طرح حاصل کرتی ہے کہ انھیں خود یہ پتہ بھی نہ چلے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے اس ٹولے کو ایسا لگتا ہے کہ یہ مفاد عامہ کا کام کر رہا ہے اس طرح یہ ٹولے پھلتے پھولتے رہتے ہیں تا وقت کہ اسٹیبلشمنٹ کا مفاد پورا ہوتا رہے اس بااختیار گروہ کی ترجیح ہوتی ہے کہ اس پورے ٹولے کو ایک شخص یا چند افراد کے ذریعے رابطے میں رکھے اور مز ید لوگ انکے مرہون منت رہیں اس ٹولے کو بے پناہ مراعات سے نوازا جاتا ہے یہ ٹولہ عام لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ یہ ان کے حقوق کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے برسرپیکار ہے مگر یہ اپنے سے وابستہ افراد کو فیضیاب کرتا ہے جن کے ذریعے معاشرے میں اپنا دبدبہ قائم کرتا ہے اس طرح یہ ٹولہ خود کو افضل الاشرف المخلوقات سمجھنے لگتا ہے اس وقت انھیں انکے دماغ کا خناس اسٹیبلشمنٹ کے مقا بل لے آتا ہے یہ اس وقت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ ان کا حساب کتاب کرنے کا تہیہ کر لیتی ہے اس کے لیے اس ٹولے کے زیر اثر یا انکے نزدیکی لوگو ں کا چناؤ کرتی ہے ان کے ذریعے انکی کردار کشی کرواتی ہے تاکہ انکے پیروکار اس گروہ کے خاتمہ پر مزاحمت نہ کریں بلکہ وہ لوگ خود یہ کہیں کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ تو تھی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اور ایسا وہی لوگ با آواز بلند کہتے ہوۓ نظر آتے ہیں جو انکے اچھے وقتوں میں ان مراعات اور اختیارات کے مزے اڑا رہے ہوتے ہیں جو انھیں اسٹیبلشمنٹ سے خدمت کے صلے میں ملتے ہیں اب یہ ٹولہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ سے جاہ و جلال ملنے کا خواب دیکھتا ہے اور اپنے پرانے ساتھیوں کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے یہ سب کچھ اس چالاکی سے کیا جاتا ہے کہ وہ غلط لگنے لگتا ہے اور یہ صحیح ہو جاتا ہے کیونکہ یہ سارا کھیل مفادات کا ہے لہذا اس ٹولے کے لوگ اپنے مفادات کو جاری اور ساری رکھنے کے لیے اس ٹولے میں آ جاتے ہیں وہ لوگ جو اس ٹولے سے مفادات کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے ناراض ہو کر الگ ہو گئے تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کچھ نئے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں یا شامل کر لیے جاتے ہیں اس طرح یہ گورکھ دھندہ چلتا رہتا ہے _
برصغیر پر انگریز کے قبضے کے بعد انگریز اسٹیبلشمنٹ نے برصغیر پر مکمل اختیار اور اقتدار کے دوام کے لیے ایسی ہی حکمت عملی اپنائی معاشرتی پسے ہوۓ طبقے کو چپڑاسی، کلرک کی نوکریاں دیں دیہاتیوں کو فوج میں بھرتی کیا شہری غریب طبقے کو ریلوے. ڈاک خانوں اور دوسرے اداروں میں ملازمتیں دیں ایسا براہ راست نہیں کیا بلکہ اپنے مفاد میں استعمال ہونے والے افراد اور ٹولوں کے ذریعے کیا اس سے ایک تو عام انسان کو اپنا گرویدہ کیا تو دوسری جانب اپنے ہندوستانی حلیف افراد و ٹولوں کو احسان تلے دبایا جس سے ہندوستان میں انگریز کو اقتدار میں مزاحمت نہ ہونے کے برابر رہی سر کردہ پڑھے لکھنے لوگوں کو القابات اور نسبتا" بہتر ملازمتیں دیں انھوں نے اپنے قلم کے ذریعے انگریز کی قصیدہ گوئی کی ۱۸۵۷ جسے برصغیر کا عام باشندہ جنگ آزادی کہتا ہے ان پڑھے لکھے انگریز سے مراعات یافتگان نے غدر اور بغاوت سے موسوم کیا اور صلے میں سر کا خطاب پایا اور جو زراعت سے وابستہ سرکردہ افراد تھے انھیں زمینوں اور جاگیروں سے نوازا اس کے بدلے پورے گاؤں کی حمایت حاصل کی انسانوں کو مارنےکے پرمٹ بھی جاری کیے اس کے لیے خان بہادر کا لقب دے کر سات خون معاف اور چودہ خون معاف کر دیے گئے یہ سب انگریز اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرتے تھے اس سے ہندوستان میں معززین کے نئے طبقے بنے عام دوکاندار کاریگر مزدور کے مقابلے میں انگریز کا چپڑاسی معزز ہو گیا ایسا نادانستہ نہیں ہوا بلکہ دانستہ طور پر کیا گیا اس زمانے میں کاروباری کھاتے پیتے افراد جو لباس ہہنتے تھے اس کو چپڑاسیوں کا یونیفارم قرار دے دیا اسٹیبلشمنٹ کا ایک حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو خود سے آسودہ اور اسٹیبلشمنٹ کے حواری ٹولوں کی کاسہ لیسی سے آزاد ہوتے ہیں انھیں پسپا کرکے ان کی جگہ اپنے کاسہ لیسوں کو لانے کی کوشش کرتی ہے اس سے معاشرے میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مفادات کے لیے کام کرنے والے ٹولوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور عام انسان کے لیے انتہائی پریشانی کا سبب ہوتی ہے اور اس صورتحال سے اسٹیبلشمنٹ کے پلے ہوۓ ٹولے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ایک تو اپنا خوف قائم رکھنے میں آسانی ہوتی ہے تو دوسری طرف ان خوف زدہ لوگوں سے جبری نذرانے وصول کرتے ہیں اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ ان کا وجود ان کے ہونے سے ہے اور انہیں یہ نذرانے نہیں دیں گے تو ان کا کاروبار کرنا تو درکنار ان کا زندہ رہنا بھی دشوار ہو جاۓ گا نااہل افراد اور ٹولے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے مالدار، باعزت اور اشرف ہو گئے اور محنت کی کمائی اور عزت نفس کے ساتھ جینے والوں کا جینا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں