اسٹیبلشمنٹ کے لغوی معنے کچھ بھی ہوں لیکن اس کے رائج معنے بااختیار افراد یا گروہ ہے جو اپنے مفاد کے لیے متحرک رہتا ہے اس کے لیے حاصل اختیار کا بے دریغ استعمال کرتا ہے یہ اداروں، ملک اور دنیا میں من مانی کرتا ہے اس کے لیے ایسے افراد کے ٹولے تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر دانشور لیکن درحقیقت بے وقوف ہوتے ہیں _
برصغیر پر انگریز کے قبضے کے بعد انگریز اسٹیبلشمنٹ نے برصغیر پر مکمل اختیار اور اقتدار کے دوام کے لیے ایسی ہی حکمت عملی اپنائی معاشرتی پسے ہوۓ طبقے کو چپڑاسی، کلرک کی نوکریاں دیں دیہاتیوں کو فوج میں بھرتی کیا شہری غریب طبقے کو ریلوے. ڈاک خانوں اور دوسرے اداروں میں ملازمتیں دیں ایسا براہ راست نہیں کیا بلکہ اپنے مفاد میں استعمال ہونے والے افراد اور ٹولوں کے ذریعے کیا اس سے ایک تو عام انسان کو اپنا گرویدہ کیا تو دوسری جانب اپنے ہندوستانی حلیف افراد و ٹولوں کو احسان تلے دبایا جس سے ہندوستان میں انگریز کو اقتدار میں مزاحمت نہ ہونے کے برابر رہی سر کردہ پڑھے لکھنے لوگوں کو القابات اور نسبتا" بہتر ملازمتیں دیں انھوں نے اپنے قلم کے ذریعے انگریز کی قصیدہ گوئی کی ۱۸۵۷ جسے برصغیر کا عام باشندہ جنگ آزادی کہتا ہے ان پڑھے لکھے انگریز سے مراعات یافتگان نے غدر اور بغاوت سے موسوم کیا اور صلے میں سر کا خطاب پایا اور جو زراعت سے وابستہ سرکردہ افراد تھے انھیں زمینوں اور جاگیروں سے نوازا اس کے بدلے پورے گاؤں کی حمایت حاصل کی انسانوں کو مارنےکے پرمٹ بھی جاری کیے اس کے لیے خان بہادر کا لقب دے کر سات خون معاف اور چودہ خون معاف کر دیے گئے یہ سب انگریز اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرتے تھے اس سے ہندوستان میں معززین کے نئے طبقے بنے عام دوکاندار کاریگر مزدور کے مقابلے میں انگریز کا چپڑاسی معزز ہو گیا ایسا نادانستہ نہیں ہوا بلکہ دانستہ طور پر کیا گیا اس زمانے میں کاروباری کھاتے پیتے افراد جو لباس ہہنتے تھے اس کو چپڑاسیوں کا یونیفارم قرار دے دیا اسٹیبلشمنٹ کا ایک حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو خود سے آسودہ اور اسٹیبلشمنٹ کے حواری ٹولوں کی کاسہ لیسی سے آزاد ہوتے ہیں انھیں پسپا کرکے ان کی جگہ اپنے کاسہ لیسوں کو لانے کی کوشش کرتی ہے اس سے معاشرے میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مفادات کے لیے کام کرنے والے ٹولوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور عام انسان کے لیے انتہائی پریشانی کا سبب ہوتی ہے اور اس صورتحال سے اسٹیبلشمنٹ کے پلے ہوۓ ٹولے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ایک تو اپنا خوف قائم رکھنے میں آسانی ہوتی ہے تو دوسری طرف ان خوف زدہ لوگوں سے جبری نذرانے وصول کرتے ہیں اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ ان کا وجود ان کے ہونے سے ہے اور انہیں یہ نذرانے نہیں دیں گے تو ان کا کاروبار کرنا تو درکنار ان کا زندہ رہنا بھی دشوار ہو جاۓ گا نااہل افراد اور ٹولے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے مالدار، باعزت اور اشرف ہو گئے اور محنت کی کمائی اور عزت نفس کے ساتھ جینے والوں کا جینا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں